بھلاتا ہوں مگر غم کی درخشانی نہیں جاتی وہ آئینہ م…


بھلاتا ہوں مگر غم کی درخشانی نہیں جاتی
وہ آئینہ مقابل ہے کہ حیرانی نہیں جاتی
….
عرفا ن صدیقی کا یومِ وفات
Apr 15, 2005

عرفا ن صدیقی۔ ۱۹۳۹ء میں بدایوں میں پیدا ہوئے۔ بریلی کالج، آگرہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی۔
۱۹۶۲ء میں وزارت اطلاعات ونشریات کی مرکزی اطلاعاتی سروس سے وابستہ ہوگئے۔ ملازمت کے سلسلے میں دلی، لکھنؤ وغیر ہ قیام رہا۔یہ نیاز بدایونی کے چھوٹے بھائی تھے۔۱۵؍اپریل ۲۰۰۴ء کو لکھنؤ میں انتقال کرگئے۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’کینوس‘، ’عشق نامہ‘، ’شب درمیاں‘، ’سات سماوات‘(مجموعہ شاعری)۔ اس کے علاوہ دو تین کتابیں ابلاغ وترسیل وغیرہ سے متعلق موضوعات پر شائع ہوئیں
…
بھلاتا ہوں مگر غم کی درخشانی نہیں جاتی
وہ آئینہ مقابل ہے کہ حیرانی نہیں جاتی

نگاہ شوق سے تا دیر حیرانی نہیں جاتی
شباب آیا تو ظالم شکل پہچانی نہیں جاتی

تجھے دیکھوں کہ تیرے التفات نرم کو سمجھوں
محبت بھی ترے جلووں میں پہچانی نہیں جاتی

سحاب و سیل دھو سکتے نہیں گرد فلاکت کو
بہار آئی مگر دنیا کی ویرانی نہیں جاتی

کہاں تک ساتھ دے سکتی ہیں آنکھیں سوزش دل کا
بہت رویا مگر غم کی گراں جانی نہیں جاتی

جوانی کو گناہوں سے الگ کرنا نہیں ممکن
یہ وہ مے ہے جو فرط کیف سے چھانی نہیں جاتی

محبت تار تار پیرہن کر اپنے کانٹوں سے
کہ ان پھولوں سے میری تنگ دامانی نہیں جاتی

نشورؔ اس وقت بھی دنیا اسیر ملک و دولت ہے
ابھی فکر و نظر تا حد انسانی نہیں جاتی
…