بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب مخدومؔ محی الدین …
بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب
مخدومؔ محی الدین
بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب
اور بھی سرخ ہے رخسار حیا آخر شب
منزلیں عشق کی آساں ہوئیں چلتے چلتے
اور چمکا ترا نقش کف پا آخر شب
کھٹکھٹا جاتا ہے زنجیر در مے خانہ
کوئی دیوانہ کوئی آبلہ پا آخر شب
سانس رکتی ہے چھلکتے ہوئے پیمانے میں
کوئی لیتا تھا ترا نام وفا آخر شب
گل ہے قندیل حرم گل ہیں کلیسا کے چراغ
سوئے پیمانہ بڑھے دست دعا آخر شب
ہائے کس دھوم سے نکلا ہے شہیدوں کا جلوس
جرم چپ سر بہ گریباں ہے جفا آخر شب
اسی انداز سے پھر صبح کا آنچل ڈھلکے
اسی انداز سے چل باد صبا آخر شب
…….
"اسی انداز سے چل بادِ صبا آخرِ شب”
فیض احمد فیض
یاد کا پھر کوئی دروازہ کھُلا آخرِ شب
دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخرِ شب
صبح پھوٹی تو وہ پہلو سے اُٹھا آخرِ شب
وہ جو اِک عمر سے آیا نہ گیا آخرِ شب
چاند سے ماند ستاروں نے کہا آخرِ شب
کون کرتا ہے وفا، عہدِ وفا آخرِ شب
لمسِ جانانہ لیے، مستیِ پیمانہ لیے
حمدِ باری کو اٹھے دستِ دعا آخرِ شب
گھر جو ویراں تھا سرِ شام وہ کیسے کیسے
فرقتِ یاد نے آباد کیا آخرِ شب
جس ادا سے کوئی آیا تھا کبھی اولِ شب
"اسی انداز سے چل بادِ صبا آخرِ شب”
….
ماسکو اکتوبر، 1978ء