بورخیس کو پڑھنا ایک بلکل نئے جہان کی سیر کے مترادف…
بورخیس کو پڑھنا ایک بلکل نئے جہان کی سیر کے مترادف ہے۔اس جہان میں قدم قدم پر آپ کا سامنا تحیر سے پر اور چکرا دینے والے واقعات سے ہوتا ہے۔کبھی کبھی سادہ مگر گھنے بیانہ پر تجرید کا اچانک حملہ ہمیں سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیتا۔ یہاں زمان ومکاں کا روایتی تصور جھاگ کی طرح غائب ہوجاتا ہے۔غائب ہونا اور پھر ظاہر ہوکر وقت کو ایک مغالطہ ثابت کر دینا بورخیس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔بورخیس کو کھیل میں بڑا مزہ آتا ہے۔وہ اپنے ساتھ قاری کو اس کھیل میں شامل کرلیتاہے۔ ایک لامتناہی کھیل ۔جس سے اگر قاری باہر آنا چاہے تو اس کا دم بند ہوجائے۔
بورخیس کے جس افسانے کا اقتباس یہاں درج ہے ۔اسے ہمارے زمانے کےممتاز مترجم اجمل کمال نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اجمل کمال اتنے عمدہ مترجم ہیں کہ ان کے ترجمے پر ترقی ممکن نہیں۔ ان کا ترجمہ پڑھ لینے کے بعد کسی اور کا ترجمہ پڑھنے کو جی نہیں چاہتا۔
“فجر کے قریب اس نے خواب دیکھا کہ وہ کلیمنٹائن لائبریری میں الماریوں کی قطاروں سے بن یہ ہوئ راہداری میں جا چھپا ہے۔سیاہ شیشوں کی عینک لگائے ایک لائبریرین نے اس سے پوچھا،”تم کیا تلاش کر رہے ہو؟” ہلاڈک نے جواب دیا،”میں خدا کو تلاش کر رہا ہوں۔” لائبریرین نے اس سے کہا ،”خداکلیمنٹائن کی چار لاکھ کتابوں میں سے کسی کتاب کے کسی صفحے کے کسی حرف میں ہے۔میرے باپ اور میرے باپوں کے باپ اسی حرف کو ڈھونڈتے رہے ہیں۔ میں بھی اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اندھا ہوگیا ہوں۔” اس نے اپنی عینک اتاری اور ہلاڈک نے اس کی آنکھیں دیکھیں جو مردہ ہو چکی تھیں۔”
بورخیس “کرشمۂ مخفی” مترجم اجمل کمال
Ajmal Kamal
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2920598021504045