بنتے رہے ہیں دل میں عجب گردباد سے رنگوں کو آزما …
بنتے رہے ہیں دل میں عجب گردباد سے
رنگوں کو آزما نہ سکے اعتماد سے
یہ اور بات آبلے ہونٹوں پہ پڑ گئے
دہلیز چوم لی ہے مگر اعتقاد سے
برسوں کی بے زبان تھکاوٹ لپٹ گئی
جب شہرِ دل میں لوٹ کے آئے جہاد سے
سرسوں کی چاندنی سے برہنہ درخت تک
ہر شے کی دلکشی نکھر آئی تضاد سے
کچھ خوش دہاں رفیق کہِیں بِیچ بِیچ میں
میرا بھی ذکر کرتے رہے ہیں عناد سے
پھر آج ایک شکل تراشی ہے سوچ کی
دل کی گُھپا میں حرف کے کچّے مواد سے
سجّادؔ کوئی حیلہ! کہ لؤ دے اُٹھے یہ دل
دم گُھٹ رہا ہے خون کے اِس انجماد سے
(سجّادؔ بابر)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)