پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

بشیر بدرؔ سوئے شجر لرز اُٹھے، جیسے کہ ڈر گئے کُچ…

بشیر بدرؔ

سوئے شجر لرز اُٹھے، جیسے کہ ڈر گئے
کُچھ چاندنی کے پُھول زمِیں پر بِکھر گئے

شِیشے کا تاج، سر پہ رکھے آ رہی تھی رات !
ٹکرائی ہم سے، چاند سِتارے بِکھر گئے

وہ خُشک ہونٹ ریت سے نم مانگتے رہے
جِن کی تلاش میں کئی دریا گزر گئے

چاہا تھا میں نے چاند کی پلکوں کو چُوم لُوں
ہونٹوں پہ میری صُبح کے تارے بِکھر گئے

میرے لبوں پہ چاند کی کاشیں لرز گئیں
آنکھوں پہ جیسے رات کے گیسُو بِکھر گئے

ساحِل پہ رُک گئے تھے ، ذرا دیر کے لیے
آنکھوں سے دِل میں کتنے سمندر اُتر گئے

پایا جو مُسکراتے ہُوئے، کہہ اُٹھی بہار!
جو زخم پچھلے سال لگائے تھے، بھر گئے ؟

جِن پر لِکھی ہُوئی تھی محبّت کی داستاں
وہ چاک چاک پُرزے، ہَوا میں بِکھر گئے

ڈاکٹر بشیر بدرؔ