بتدریج دکھ رنج میں بدلتا ہے،وقت کیساتھ رنج خاموشی …
بتدریج دکھ رنج میں بدلتا ہے،وقت کیساتھ رنج خاموشی میں،خاموشی تنہائی پسندی میں بدل جاتی ہے،تاریک سمندروں جیسی وسیع اور بے انت۔
آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مزید زندہ نہیں رہ سکتے۔آپ سمجھتے ہیں آپکی روح کی روشنی بجھ چکی ہے،اور یہ تاریکی اب ہمیشہ رہے گی۔لیکن جب آپکو ایسی ٹھوس تاریکی نگل لے ،جب آپکی دونوں آنکھیں دنیا سے بند ہو جائیں،تو آپکے قلب میں تیسری آنکھ کھل جاتی ہے۔
اور تبھی آپکو ادراک ہوتا ہے کہ بصارت باطنی علم سے تضاد رکھتی ہے۔ محبت کی نگاہ یا آنکھ سے بہتر یا تیز نگاہ یا آنکھ نہیں۔ رنج ایک اور موسم، ایک اور وادی آپکی ایک اور ذات لاتا ہے۔اور محبوب جو کہیں دکھائ نہیں دیتا آپ اسے چہار سُو دیکھنے لگتے ہیں۔
آپ اسے پانی کے ایک قطرے میں دیکھتے ہیں جو سمندر میں گرتا ہے،چاند کے طلوع ہونے پر، اٹھتی موج میں ،یا صبح کی ہوا میں جو تازہ مہک لیے آتی ہے۔آپ اسے ریت کی رمالی نشانیوں میں دیکھتے ہیں،سورج کی دھوپ میں چمکتے خاک کے ذرات میں، نو زائیدہ بچے کی مسکراہٹ میں یا اپنی دھڑکتی رگوں میں۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں محبوب جا چکا ہے ،جبکہ وہ ہر کہیں ہے ،ہر شے میں ہے۔
مولانا رومی
چالیس چراغ عشق کے سے اقتباس
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2965244897039357