پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

باندھا تھا خود ہی آپ نے پیغام التفات کیا بات …

باندھا تھا خود ہی آپ نے پیغام التفات
کیا بات تھی جو آپ ہی خود بد گماں ہوئے
——————————-
راستے میں مل گئے تو پوچھ لیتے ہیں مزاج
اس سے بڑھ کر اور کیا ان کی عنایت چاہئے
——————————–
حدیثِ دل بہ زبانِ نظر بھی کہہ نہ سکا
حضورِ حسن بڑھی اور بے بسی میری
——————————–
وجہِ سکوں نہ بن سکیں

حسن کی دل نوازیاں
بڑھ گئیں اور الجھنیں تم نے جو مسکرا دیا
———————————
دنیا کے اس عبرت خانے میں حالات بدلتے رہتے ہیں
جو لوگ تھے کل مشہورِ جہاں ہیں آج وہی گمنامی میں
——————————–
ترکِ تعلقات کا کچھ ان کو غم نہیں
ہم تو شکستِ عہدِ وفا سے ملول ہیں
——————————–

(ایوب ذوقی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی