پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

باصر سلطان کاظمی کا یومِ پیدائش August 04، 1953 سا…


باصر سلطان کاظمی کا یومِ پیدائش
August 04، 1953
سالگرہ مبارک
…..
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
—
جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہا
بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف
—
*دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو*
*پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو*
—
کچھ تو حساس ہم زیادہ ہیں
کچھ وہ برہم زیادہ ہوتا ہے
—
*باصرؔ تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں*
*بیمار ہو؟ پڑے رہو، مر بھی گئے تو کیا*
—
اِتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح
پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح

حُسن و خوبی اک طرف اُس پر وفا بھی ختم ہے
ہم کو بہلاتا ہے محبوبِ خیالی کس طرح

ہو گیا دل کے مکاں میں اک حسیں آ کر مکیں
فکر یہ ہے اب کرائیں اِس کو خالی کس طرح

پاوں رکھنا بھی جہاں کل تک نہ تھا زیبا اُنہیں
وقت نے لا کر بنایا ہے سوالی کس طرح

ہو گئے بے حال جو تیرے تغافل کے سبب
کس طرح ہو گی مگر ان کی بحالی کس طرح

گلشنِ جاں میں ہوائے شعر پھر سے چل پڑی
جھومتی ہے پتی پتی ڈالی ڈالی کس طرح

مدتیں درکار ہیں باصِر حصولِ صبر کو
ایک دن میں تم نے یہ دولت کما لی کس طرح

1988، از ’موجِ خیال‘ (1997)، مشمولہ ’شجر ہونے تک‘ (2015)
…
ناصؔر کاظمی کے صاحبزادے” باصرؔ سلطان کاظمی “ کا یومِ ولادت…*

*باصِرؔ سلطان کاظمی*، *٤؍ اگست ١٩٥٣ء* کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے 1976 میں ایم اے انگریزی سے کیا اور وہیں لیکچرر بھی رہے۔ 1990 میں برطانیہ گئے اور یونیورسٹی آف مانچسٹر سے ایم ایڈ اور ایم فِل اوراوپن یونیورسٹی سے پی جی سی ای (انگریزی) کیا
باصراردو کے پہلے شاعر اور ادیب ہےں جنہیں ادبی خدمات پرحکومتِ برطانیہ کی جانب سے کوئی اعزاز دیا گیا