:اے قصۂ بہشت زکویتے حکایتے: حافظؔ شیرازی جنّت کا …


:اے قصۂ بہشت زکویتے حکایتے:
حافظؔ شیرازی

جنّت کا ذکر، تیری گلی کی حکایت ایک
آبِ حیات، تیرے ہی لب سے کنایت ایک

اعجازِ عیسوی، تِرے ہونٹوں کی اِک ادا !
حُوروں کا حُسن، تیرے ہی رُخ کی روایت ایک

پاتا نہ بار مجلسِ رُوحانیاں میں عطر!
خوشبو نے تیری، گُل سے یہ کی ہے رعایت ایک

اے خاکِ آستاں کی تمنّا! جلا دِیا
تُو نے بھی کی صَبا، نہ ہماری حمایت ایک

ہُوں، اُس کی یادِ رٗخ میں جلائے ہزار بار
دوزخ سے مُجھ کو ہوگی نہ ، ہرگز شکایت ایک

بُوئے کبابِ دِل نے بسایا جہان کو
اِس آتشِ دَرُوں میں بھی دیکھی سرایت ایک

اے دِل! گنوائے دانش و دِیں، مٗفت کھودِیے
سرمایے کیسے کیسے، کہ ہوتا کفایت ایک

سمجھے بھی آہ و نالہ سے حافظ کا مُدّعا؟
لُطف اِک کرے وزیر، شہنشاہ عنایت ایک

حافظؔ شیرازی
(ترجمہ مولوی محمداحتشام الدین حقّی دہلوی)