اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ قاسم علی خ…
اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ
قاسم علی خان آفریدی
اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ
بے خطر ٹھوک کے خم جنگ کے سامان میں آ
خوف غماز رقیبوں کا نہ کر کچھ ہرگز
ہو کے راضی بہ رضا وقت ہے میدان میں آ
فرصت اس وقت غنیمت ہے نکل ظلمت سے
سلجھ کر زلف سے رخسار درخشان میں آ
گل رخسارہ کا نظارہ تو کر آنکھیں کھول
انگبیں چکھنے کو پھر دل لب خندان میں آ
بعد اس کے جو اگر سمجھے مناسب اے دل
قید ہونے کے تئیں چاہ زنخدان میں آ
ہرزہ پھرنے سے ترے گوشہ نشینی بہتر
وہم و شک اور گماں چھوڑ کے ایقان میں آ
وصل و ہجرت کے تئیں ایک سمجھ افریدیؔ
عقل ہے کچھ بھی اگر صحبت رندان میں آ
………….
”قاسم علی خان آفریدی“ کا سال ولادت 1763ءاور وفات 1823ءہے۔ یہ سرحد کا ایسا شاعر ہے جس نے پشتو اور اردو میں غزلیں لکھیں۔ اس لیے اسے ہم سرحد کا پہلا باقاعدہ اردو غزل گو شاعر قرار دے سکتے ہیں۔ ان کی غزل میں صاف پن اور سادگی موجود ہے جبکہ مقامی زبان کے بھی تھوڑے سے اثرات ان کی شاعری پر پڑے ہیں۔قاسم کے چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
دیکھ کر عشق کی حالت میری مجنوں بولا
میں چلا شہر اجی لیجئے ویرانے کو
…………………………….
ہم جن کی محبت میں رسوا ہوئے عالم میں
کب چھوڑ گلی ان کی بدنام نکلتے ہیں