اےہمنوا
اٹھ! آتشِ خاموش کوتوآگ لگادے
آفاق میں پھیلےخس وخاشاک جلادے
سوئےہوئےمومن کوپھراک بارجگادے
رحلت کی گھڑی ہےذراآوازلگادے
جس کےلئےبےچین ازل سےہیں ملائک
عالم کوتماشاوہ سرِ عام دکھادے
سلطاں کی عدالت ہے،تومظلومِ جہاں ہے
آوازِ فغاں سےدرودیوارہلادے
دنیامیں مسلم ہےتری سطوت وقوت
کفرِ متکبرکوپھراک بارصلادے
آئینہ سکندرکاہےمشہورِجہاں گر
تواپنےکسی سنگِ شکستہ کوجلادے
تنگ آگئی ہےبزم مئےخام سےساقی
اس سےتوہےاچھاکہ کوئی زہرپلادے
مدت سےنہیں تیرےسمندرمیں طلاطم
ہرقطرۂ بےمایہ سےطوفان اٹھادے
ہےصاحبِ گفتاربھی کرداربھی لیکن
اللہ تجھےصاحبِ اسراربنادے
حافظ محبوب

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔