ایک ہی شعلہ تھا اقلیمِ ہَوا میں روشن
وہ جو اک جسم تھا فانوسِ قبا میں روشن
استعارہ ہے کوئی ذہنِ رسا میں روشن
جیسے خیمہ ہو کوئی دشتِ بَلا میں روشن
ہاں وہی آنکھ جو کُھلتی نہیں دنیا کی طرف
تُو اُسی آنکھ پہ ہے ارض و سما میں روشن
اک سفر سے ہیں مِرے شہر کے دن گرد آلود
اک تھکن سے ہیں مِرے شہر کی شامیں روشن
ٹوٹ سکتا ہوں’ مگر بُجھ نہیں سکتا مَیں کبھی
فَقر کی آگ ہے اک میری انا میں روشن
اب بھی تنہائی میں آتا ہے کبھی تیرا خیال
اب بھی ہوتی ہے کبھی برق گھٹا میں روشن
زینتِ طاق ہے اب ایک سِیہ پوش چراغ
اب کہاں خواب تِرے خواب سرا میں روشن
ہیں معلّق تہہ ِ افلاک دُعائیں کتنی
ہیں ستارے ابھی کتنے ہی خلا میں روشن
اصل سرچشمہ معانی کا یہی تو ہے’ مِیاں !
یہ جو سنّاٹا سا کوئی ہے صدا میں روشن
( رفیق رازؔ )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔