ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کمہار رہتا تھا ۔اس کا ایک …
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کمہار رہتا تھا ۔اس کا ایک لڑکا تھا جو بوڑھے کے ساتھ کام کرتا تھا بوڑھے کے پاس ایک گدھا تھا جس پر وہ اکثر مٹی کے برتن لاد کر قریب کے بازار میں فروخت کرنے کے لئے جاتا تھا ۔ایک روز وہ اپنے لڑکے کے ساتھ مٹی کے برتن فروخت کرنے کے لئے قریب کے گاؤں میں گیا ۔دوپہر تک اس کے پاس کے تمام برتن فروخت ہو گئے کمہار نے وہاں بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھایااور واپس اپنے گاؤں جانے لگا ۔پہلے اس نے سوچا کہ میں اس گدھے پر لڑکے کو سوار کر دیتا ہوں کیوں کہ یہ چھوٹا ہے زیادہ پیدل چلے گا تو اسکے پیر درد کریں گے۔کمہار نے گدھے کی رسی اپنے ہاتھ میں تھامی اور گدھے پر لڑکے کو سوار کرکے چلنے لگا ۔ابھی وہ کچھ دور بھی نہیں چلا تھا کہ سامنے سے آنے والے چند لوگوں نے ان کی جانب دیکھ کر ہنسنا شروع کیا ۔جیسے وہ قریب پہونچے تو انہوں نے کہا کہ کیسا بے شرم لڑکا ہے اسے بڑوں کی عزت نہیں آتی خود گدھے پر سوار ہے اور اپنے بوڑھے باپ کو پیدل چلا رہا ہے۔یہ سن کر لڑکے نے اپنے والد سے گدھے پر سوار ہونے کو کہا اور لڑکا گدھے کی رسی ہاتھ میں تھامے چلنے لگا ۔ابھی وہ تھوڑی دور ہی چلنے پائے تھے کہ سامنے ایک جگہ کھڑے لوگوں نے ان پر ہنسنا شروع کیا۔کہنے لگے کیسا خود غرض باپ ہے چھوٹے لڑکے کو پیدل چلا رہا ہے اور خود گدھے پر سوار ہے ۔باپ نے سوچا چلو میں لڑکے کو بھی اپنے ساتھ گدھے پر سوار کرلیتا ہوں اب دونوں باپ اور بیٹا گدھے پر بیٹھ کرجانے لگے۔آگے جانے پر ایک موڑپر انہیں چند آدمی دکھائی دیئے جب یہ دونوں باپ بیٹے ان کے قریب پہونچے تو لوگوں نے ان کے جانب دیکھ کر انہیں روکا اور کہنے لگے کیسے بے دردلوگ ہیں بیچارے گدھے پر ان کو رحم بھی نہیں آتا۔اس بے زبان جانور پر دونوں سوار ہوکر مزے سے جا رہے ہیں ۔اب کمہار اور اس کے لڑکے نے گدھے کو زمین پر لٹا دیا اور اس کے چارو ں پیر رسی سے باندھ دیئے اور بیچ میں ایک لکڑی ڈال کر اس گدھے کو اپنے کاندھے پر سوارکر کے لے جانے لگے لوگوں نے جب ان دونوں کوگدھے کو اس طرح لاتے دیکھا تو ان کی ہنسی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ۔کہنے لگے کیسے بیوقوف لوگ ہیں جس پر سوار ہوکر جانا چاہئے اس کو اپنے کاندھے پر سوار کر کے لا رہے ہیں ۔اب دونوں باپ بیٹوں نے گدھے کو نیچے اتاردیا اور تینوں پیدل چلنے لگے ۔اس طرح ان کا گھر آگیا ۔گھر پہونچ کر کمہار نے اپنے لڑکے کو نصیحت کی کہ میں تمہیں یہ بتانا چاہتا تھا کہ دنیا کس طرح سے سوچتی ہے نہ تو وہ ہمیں گدھے پر سوار ہونے دیتی ہے اور نہ ہی ہم گدھے کو سوار کر سکتے ہیں اس لئے تمہیں زندگی میں کئی ایسے لوگ ملیں گے جو ہر بات پر ٹوکیں گے چاہے تم صحیح کام کر رہے ہو یا غلط اس لئے ہمیشہ وہی کام کرنا جو ہم کو صحیح لگتا ہے لوگ کیا سوچیں گے یا کیا کہیں گے اس کی پرواہ نہیں کرنا چاہئیے۔ کیونکہ دنیا میں لوگ اکثر کاموں میں نقص ہی نکالتے ہیں۔ اگر ہم پورے طور پر سب کی سن کر چلنے لگیں گے تو ہماری وہی درگت بنے گی جیسی گدھے کے ساتھ بنی ہے۔