ایک مرتبہ ’’ یادوں کی برات‘‘ والے جوش ملیح آبادی ک…
ایک مرتبہ ’’ یادوں کی برات‘‘ والے جوش ملیح آبادی کسی مشاعرے میں شریک تھے ان کی موجودگی میں ایک غیرمعروف شاعرنے ان کی ایک نظم بڑی ٹھاٹھ سے سناڈالی جس پر داد تو بہت ملی لیکن جوش ملیح آبادی کو بہت غصہ آیا۔۔۔انہوں نے شاعرکے قریب جاکر پوچھا کیوں میاں صاحبزادے ے کیا حرکت کی؟
کون سی کیسی حرکت؟شاعرنے بھولے پن سے جواب دیا۔۔۔کمال ہے جوش ملیح آبادی نے کہا میری نظم میرے ہی سامنے پڑھ ڈالی اور کہتے ہو کون سی حرکت؟
دیکھئے۔۔ غیرمعروف شاعرنے کہا۔۔۔ہو سکتاہے آپ کے اور میرے خیالات ٹکرا گئے ہوں
دیکھ بے ۔۔۔جوش ملیح آبادی نے اس کا شانہ جھنجھوڑتے ہوئے کہا
کبھی جہاز اور سائیکل کی بھی ٹکر ہوئی ہے۔۔