ایک شام… اور ایک مرد جو آہستہ آہستہ ٹوٹ گیا وہ ایک شام تھی، جب میرا ایک پرانا دو…


ایک شام… اور ایک مرد جو آہستہ آہستہ ٹوٹ گیا
وہ ایک شام تھی، جب میرا ایک پرانا دوست طویل عرصے بعد مجھ سے ملنے آیا۔
اسے دیکھ کر دل بیٹھ سا گیا۔ چہرہ زرد، آنکھوں میں ویرانی، پیشانی پر وقت اور فکر کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ شخص جو کبھی ہنستے ہوئے محفل میں داخل ہوتا تھا، آج خاموشی اوڑھے میرے سامنے بیٹھا تھا۔
میں نے حال پوچھا تو اس نے رسمی سا جواب دیا:
“اللہ کا شکر ہے، سب ٹھیک ہے۔”
مگر اس کی آنکھیں اس شکر کی گواہی نہیں دے رہی تھیں۔
کچھ توقف کے بعد وہ بول پڑا، جیسے اندر جمع سارا بوجھ لفظوں میں بہہ نکلا ہو۔
کہنے لگا:
“میں اپنے ہی گھر میں اجنبی بن گیا ہوں۔”
اس نے بتایا کہ اس کی بیوی اکثر طعنہ دیتی ہے:
“میں بیوہ ہوتی تو شاید زیادہ سکون میں ہوتی۔
تم ہوتے ہوئے بھی مجھے بیؤں والی زندگی محسوس ہوتی ہے۔”
یہ جملے صرف الفاظ نہیں تھے، یہ ایک مرد کے وجود پر چلائے گئے خنجر تھے۔
بات یہیں ختم نہ ہوئی۔
اس نے سر جھکا کر کہا:
“میری بیوی کی باتوں کا اثر اب بچوں پر بھی پڑنے لگا ہے۔
وہ بھی اپنی ماں سے کہتے ہیں:
‘ابا کے ہوتے ہوئے بھی ہمیں یتیمی محسوس ہوتی ہے۔’”
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک باپ اندر ہی اندر ٹوٹ گیا۔
وہ آہستہ آہستہ اپنی کہانی سناتا رہا:
“میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہوں۔
اپنے لیے اچھے کپڑوں کی کبھی خواہش نہیں کی،
جو مل جائے کھا لیتا ہوں،
مگر بچوں کی پلیٹ خالی نہ ہو، یہ ضرور دیکھتا ہوں۔
گھر کا کرایہ،
پانی، بجلی، گیس کے بل،
اسکول اور کالج کی فیس
سب میری ذمہ داری ہے۔
اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرتا ہوں،
صرف اس لیے کہ میرے بچے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں،
اور میری بیوی کو کسی کے آگے جھکنا نہ پڑے۔”
پھر اس کی آواز لرز گئی…
“مگر نہ کبھی شکر ادا کیا گیا،
نہ عزت کے دو بول ملے،
نہ مسکرا کر دیکھا گیا۔”
کچھ لمحے خاموشی رہی،
پھر اس کے ہونٹوں سے وہ جملہ نکلا جس نے مجھے اندر تک ہلا دیا:
“اب تو میرا بھی دل نہیں چاہتا زندہ رہنے کا…”
وہ سختی جو دراصل محبت تھی
پھر اس نے ایک اور بات کہی، جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔
کہنے لگا:
“اگر میں کہتا ہوں نماز پڑھو،
بڑوں کا ادب کرو،
وقت پر اسکول جاؤ،
پڑھائی کی اچھی تیاری کرو،
غلط صحبت سے بچو
تو کیا یہ میری خامیاں ہیں؟”
وہ لمحہ ٹھہر گیا۔
وہ بولا:
“یہ وہ خامیاں تھیں جو مجھ میں رہ گئیں۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے وہ کمی پوری کریں
جو میں اپنی زندگی میں نہ کر سکا۔
میں نہیں چاہتا کہ وہ کل کو اسی پچھتاوے کے ساتھ جئیں
جس کے بوجھ تلے میں آج دب رہا ہوں۔”
یہ سختی نہیں تھی،
یہ ایک باپ کی دور اندیش محبت تھی۔
یہ حکم نہیں تھے،
یہ دعاؤں کے لباس میں لپٹی ہوئی نصیحتیں تھیں۔

یہ تحریر ہر اس گھر کے لیے ہے
جہاں مرد کو صرف کمانے والا سمجھ لیا گیا ہے،
اس کے جذبات، اس کی تھکن،
اور اس کی خاموش قربانیوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
یاد رکھیے:
مرد صرف خرچ اٹھانے والا نہیں ہوتا،
وہ گھر کا سائیبان ہوتا ہے۔
اور سائیبان اگر روز روز طعنوں، بے قدری اور تضحیک سے زخمی ہو
تو ایک دن وہ خاموشی سے گر جاتا ہے۔
پھر نہ وہ گھر محفوظ رہتا ہے
اور نہ وہ لوگ
جو کبھی اس کے سائے میں بے فکر جیتے تھے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے وہ تمام لوگوں کو اپنی حفظ و امان کے سائے میں رکھیں
امین یا رب العالمین

ایک بے حد تکلیف دہ تحریر زیر قلم سید ریحان



Source