ایک زمین نوحؔ ناروی قابلؔ اجمیری ۔۔۔۔۔ نوحؔ آپ جِ…


ایک زمین
نوحؔ ناروی
قابلؔ اجمیری
۔۔۔۔۔
نوحؔ

آپ جِن کے قرِیب ہوتے ہیں
وہ بڑے خوش نصِیب ہوتے ہیں

جب طَبِیعَت کِسی پر آتی ہے
موت کے دِن قرِیب ہوتے ہیں

مُجھ سے مِلنا پِھر آپ کا مِلنا
آپ کِس کو نصِیب ہوتے ہیں

ظُلم سہہ کر جو اُف نہیں کرتے
اُن کے دِل بھی عجِیب ہوتے ہیں

عِشق میں اور کُچھ نہیں مِلتا
سیکڑوں غَم نصِیب ہوتے ہیں

نوحؔ کی قدر کوئی کیا جانے
کہِیں ایسے ادِیب ہوتے ہیں۔۔۔!

۔۔۔۔۔
قابلؔ

آپ اپنے رقیب ہوتے ہیں
اہلِ دل بھی عجیب ہوتے ہیں

ہِجر کی پُرخلوص راتوں میں
آپ کِتنے قرِیب ہوتے ہیں

راحتوں سے گُریز غَم سے فرار
بعض لَمحے عَجِیب ہوتے ہیں

تُم جِنہیں عُمَر بھر نہیں مِلتے
وہ بڑے خوش نصِیب ہوتے ہیں

گرِدشیں رُک گئیں زمانے کی
آج دو دِل قرِیب ہوتے ہیں۔۔۔!



Comments

4 responses to “ایک زمین نوحؔ ناروی قابلؔ اجمیری ۔۔۔۔۔ نوحؔ آپ جِ…”

  1. جواب جن کا نہیں وہ سوال ہوتے ہیں
    جو دیکھنے میں نہیں کچھ کمال ہوتے ہیں
    تراشتا ہو تمہیں اپنے جن لفظوں سے
    بہت حسین میرے وہ خیال ہوتے ہیں

  2. نظارہ تو ہے بے پردہ مگر ہر دیکھنے والا کیا دیکھے
    جو ظرف نظر میں آ نہ سکیں ایسے بھی نظارے ہوتے ہیں

جواب دیں