ایک زمین حضرت واصف علی واصفؒ حضرت نصیر الدین نصیرؒ…
ایک زمین
حضرت واصف علی واصفؒ
حضرت نصیر الدین نصیرؒ
۔۔۔۔۔
حضرتِ واصفؔ
مُجھے مَنظُور کب تھی زِندَگی تُجھ سے جُدا ہو کر
ڈبویا مُجھ کو تیرے دَرد ہی نے آسرا ہو کر
کوئ خطرہ نہیں اب قافِلے والوں کے لُٹنے کا
کوئ رہزن نہ آۓ گا مگر ہاں رہنُما ہو کر
سفِینہ بھی مِرا ساحِل بھی میرے موج بھی میری
شکایت سُن کے میری ناخُدا بولا خُدا ہو کر
نوِشتَہ ہے میری تقدیر کا یا آنکھ کا دھوکا !
کہ اپنا یار مِلتا ہے مگر اب دُوسرا ہو کر
خطا واروں پہ سُنتے ہیں نگاہِ لُطف رہتی ہے
مِلا کیا حضرت اِبلِیس کو یاں بے خطا ہو کر
نَظَر سے دُور ہو کر ہم قرِیب جان رہتے ہیں
مِرے دِل نے پُکارا ہے مُجھے تیری صدا ہو کر
ہمیں تڑپا کے بھی اُن کو تڑپنا آگیا واصفؔ
وفا کرتے ہیں وہ ہم سے بظاہِر بے وفا ہو کر۔۔۔!
۔۔۔۔۔
حضرتِ نصیرؔ
وفا ہو کر جفا ہو کر حیا ہو کر ادا ہو کر
سمائے وہ مِرے دِل میں نہیں معلُوم کیا ہو کر
مِرا کہنا یہی ہے تُو نہ رُخصَت ہو خفا ہو کر
اب آگے تیری مرضی جو بھی تیرا مُدّعا ہو کر
نہ وہ مَحفِل نہ وہ ساقی نہ وہ ساغر نہ وہ بادَہ
ہماری زِندَگی اب رہ گئی ہے بے مزہ ہو کر
معاذاللہ! یہ عالَم بُتوں کی خود نُمائی کا
کہ جیسے چھا ہی جائیں گے خُدائی پر خُدا ہو کر
بہر صُورَت وہ دِل والوں سے دِل کو چِھین لیتے ہیں
مَچَل کر مُسکُرا کر رُوٹھ کر تن کر خفا ہو کر
نہ چھوڑو ساتھ میرا ہِجر کی شب ڈُوبتے تارو!
نہ پھیرو مُجھ سے یُوں آنکھیں مِرے غم آشنا ہو کر
اِنہیں پِھر کون جانچے کون تولے گا نِگاہوں میں
اگر کانٹے رہیں گُلشن میں پُھولوں سے جُدا ہو کر
مِرے دِل نے حسِینوں سے مزے لُوٹے محبّت کے
کبھی اِس پر فِدا ہو کر کبھی اُس پر فِدا ہو کر
جہاں سے وہ ہمیں ہلکی سی اِک آواز دیتے ہیں
وہاں ہم جا پہنچتے ہیں محبّت میں ہَوا ہو کر
سنبھالیں اپنے دِل کو ہم کہ روئیں اپنی قِسمَت کو
چلے ہیں اے نصیرِ زار ! وہ ہم سے خفا ہو کر۔۔۔!