ایک زمین
بیدمؔ وراثیؒ
اخترؔ شیرانی
۔۔۔۔۔
بیدمؔ
یہ مانا خُلد کی آب و ہَوا کُچھ اور کہتی ہے
مگر اُس بُت کے کُوچے کی فضا کُچھ اور کہتی ہے
چَمَن میں بُلبُل نغمہ سرا کُچھ اور کہتی ہے
سرِ شَمشاد قُمری کی صدا کُچھ اور کہتی ہے
مِرا پیغامِ بیتابی صبا کُچھ اور کہتی ہے
سنو بھی تَو مِرے گُلگُوں قبا کُچھ اور کہتی ہے
اُدھر غیروں سے اُنکا بانکپن کُچھ اور کہتا ہے
اِدھر ہم سے نِگاہِ فِتنہ زا کُچھ اور کہتی ہے
عجائبِ کَشمَکش میں تیرا بیمار محبَّت ہے
شفا کُچھ اور کہتی ہے قضا کُچھ اور کہتی ہے
کِیا ہے اِسقَدَر بیخود نوِیدِ وَصل جاناں نے
کہ مَیں کُچھ اور سُنتا ہُوں صبا کُچھ اور کہتی ہے
اُدھر مَسجِد میں واعِظ کہہ رہا ہے مے سے تَوبہ کر
اِدھر آ آکے ساوَن کی گھٹا کُچھ اور کہتی ہے
غضب میں جان ہے اللہ یہ کیسی مُصیبَت ہے
یہاں کُچھ اور واں جا کر صبا کُچھ اور کہتی ہے
یہ کیوان نادان بَنتا ہے جو کہتا ہے انا لیلیٰ
خبر ہے قیس لیلیٰ کی رضا کُچھ اور کہتی ہے
کِیا بیدمؔ اور مار بن کر ڈس لِیا دِل کو
بتا ظالِم تِری زُلفِ دوتا کُچھ اور کہتی ہے۔۔۔!
۔۔۔۔۔
اخترؔ
بہار آئی ہے مَستانہ گھٹا کُچھ اور کہتی ہے
مگر اُن شوخ نَظروں کی حیا کُچھ اور کہتی ہے
رہائی کی خبر کِس نے اُڑائی صحنِ گُلشن میں
اَسِیرانِ قَفَس سے تو صبا کُچھ اور کہتی ہے
بہت خوش ہے دِلِ ناداں ہَوائے کُوۓ جاناں میں
مگر ہم سے زمانے کی ہَوا کُچھ اور کہتی ہے
تُو میرے دِل کی سُن آغوش بن کر کہہ رہا ہے کُچھ
تِری نِیچی نَظَر تَو جانے کیا کُچھ اور کہتی ہے
مِری جانِب سے کہہ دینا صبا لاہور والوں سے
کہ اِس موسَم میں دہلی کی ہَوا کُچھ اور کہتی ہے
ہُوئی مُدَّت کہ مے نوشی سے توبہ کرچُکے اخترؔ
مگر دہلی کی مستانہ فضا کُچھ اور کہتی ہے۔۔۔!

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔