ایک زمین آلِ احمدؔ سرور احمد فرازؔ ۔۔۔۔۔ احمدؔ مِ…
ایک زمین
آلِ احمدؔ سرور
احمد فرازؔ
۔۔۔۔۔
احمدؔ
مِری نظر نے خلا میں دراڑ ڈالی ہے
سُکُوں کی گُم شُدہ تصویر پِھر سے پا لی ہے
خود اپنی اَور بِچھائے ہیں غم کے اَنگارے
سُکُوتِ رنج سے مَیں نے نِجات پا لی ہے
کِدھر کو جائیں کہاں ہم کریں تلاش کہ اب
سُکُوں کی دُھن میں بہت خاک چھان ڈالی ہے
مَیں کِس یقیں پہ تَحَمُّل کو پائیدار کرُوں
مِرا مِزاج اَزل ہی سے لا اُبالی ہے
مُجھے یقیں نہ دِلاؤ، مَیں جانتا ہُوں، مگر
وفا کا لفظ تو عہدِ رواں میں گالی ہے
مِلا نہ جب تِری قُربت کی روشنی کا سُراغ
غموں کی لَو سے شبِ آرزُو اُجالی ہے
کِسی کے لَب پہ چراغِ دُعا نہیں جلتا
ہر ایک شخص کی جیسے زبان کالی ہے
تھا سخت ہم پہ بھی شب خُوں پہ آبرُو کی قسم
متاعِ شیشہ و نقدِ ہُنر بچا لی ہے
وفا تو پہلے ہی عَنقا تھی شہر میں احمدؔ
سُنا ہے اب تو دُکھوں کی بھی قحط سالی ہے۔۔۔!
۔۔۔۔۔
فرازؔ
ہر ایک دِل کو طلب ہر نظر سوالی ہے
کہ شہرِ حُسن میں جلووں کی قحط سالی ہے
کہاں ہیں دوست کہ آشوبِ دہر سے مَیں نے
تِرے خیال کی آسُودگی بچالی ہے
بتا رہا ہے فضا کا اٹوٹ سنّاٹا
اُفُق سے پِھر کوئ آندھی اُترنے والی ہے
لرز رہے ہیں شُگُوفے چمن میں کِھلتے ہُوۓ
حِناۓ دستِ صبا میں لہُو کی لالی ہے
پیو شراب کہ ناصح نے زہر بھی دے کر
ہماری جُرأتِ رِندانہ آزمالی ہے
پِھر آج دانۂ گنْدُم کےسِلسِلے میں فرازؔ
کِسی خُدا نے مِری خُلد بیچ ڈالی ہے۔۔۔!