اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو جسے حا…


اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو
جسے حاصل ہو تیرا قرب وہ تجھ سے جدا کیوں ہو
….
شوکت تھانوی کا یومِ پیدائش
Feb 02, 1904
پاکستان کے اردو کے نامور مزاح نگار‘ شاعر اور صحافی جناب شوکت تھانوی کی تاریخ پیدائش 2 فروری 1904ء ہے۔ جناب شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا – 4 مئی 1963ء کو لاہور میں وفات پاگئے
..
دھوکا تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا
مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی
—
اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا
اک خواب تھا اور خواب بھی تعبیر نما تھا
—
حقیقت سامنے تھی اور حقیقت سے میں غافل تھا
مرا دل تیرا جلوہ تھا ترا جلوہ مرا دل تھا
—
رسوا بقدر ذوقِ تمنا نہیں ہوں میں
اپنے عروج پر ابھی پہونچا نہیں ہوں میں
—
جو ہم انجام پر اپنی نظر اے باغباں کرتے
چمن میں آگ دے دیتے قفس کو آشیاں کرتے
—
انہیں کا نام محبت انہیں کا نام جنوں
مری نگاہ کے دھوکے تری نظر کے فریب
—
دیر میں ہے وہ نہ کعبہ میں نہ بت خانے میں ہے
ڈھونڈھتا ہوں جس کو میں وہ میرے کاشانے میں ہے
—
صاف تصویریں نظر آتی ہیں حسن و عشق کی
تجھ کو میرے عجز میں اور مجھ کو تیرے ناز میں
—
وفا میں ہے وفائی ہے وفائی میں وفا کیسی
وفا ہو تو جفا کیوں ہو جفا ہو تو وفا کیوں ہو
—
یہاں جزا و سزا کا کچھ اعتبار نہیں
فریب حد نظر ہے عروج دار نہیں
—
پست ہوتی ہے جہاں اہل دلا کی ہمت
اس جگہ کام غریبوں کی دعا آتی ہے
—
مذاق شکوہ اچھا ہے مگر اک شرط ہی اے دل
یہاں جو یاد کر لینا وہاں جا کر بھلا دینا
—
طلسم سوزِ محبت کی گرمیاں توبہ
کہ ہم نے اشک کے پانی میں بھی دھواں دیکھا
—
عبرت فزا ہے اہل زمانہ کے واسطے
شوکتؔ وہ داستاں جو کسی نے سنی نہیں
………….
اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو
جسے حاصل ہو تیرا قرب وہ تجھ سے جدا کیوں ہو
یہ ہستی و عدم کیوں ہو فنا کیوں ہو بقا کیوں ہو
تمہیں تم ہو تو پھر دل میں خیال ماسوا کیوں ہو
وفا میں ہے وفائی ہے وفائی میں وفا کیسی
وفا ہو تو جفا کیوں ہو جفا ہو تو وفا کیوں ہو
نتیجہ کچھ نہیں ہے شمع کے آنسو بہانے سے
یہ صرف بے محل عاشق کا آخر خوں بہا کیوں ہو
تمہاری بے وفائی کیا سند ہے ساری دنیا کو
ہوئے تم بے وفا تو عمر میری بے وفا کیوں ہو
خدا ناکردہ میں اور کامیابی غیر ممکن ہے
جو بر آئے کسی صورت وہ میرا مدعا کیوں ہو
اثر سے دل کے برہم کیوں نظام دہر ہو جائے
ہم اس سے بے وفا کیوں ہوں وہ ہم سے با وفا کیوں ہو
سراسر ظلم ہے اس بات میں تم سے گلا میرا
ردا رکھو جسے تم پھر وہ ظلم ناروا کیوں ہو
یہیں تیار ہیں جو کچھ کہو جو حکم فرماؤ
ہمارے جرم پر پابندئ روز جزا کیوں ہو
یہی کافی ہے مرنے کے لئے یہ بھی بہانہ ہے
ضرورت کیا ہے آخر درد دل اس سے سوا کیوں ہو
زباں خاموش ہے لب بند ہیں ہمت شکستہ ہے
دعا سے ہاتھ اٹھائے ہیں تو اب کوئی دعا کیوں ہو
میں کھونا چاہتا ہوں مد و جزر بحر میں شوکتؔ
وہ ساحل آشنا کشتی کا میری نا خدا کیوں ہو
………….