اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی بیٹ…


اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی
بیٹھی ہے دریا کے کنارے میری طرح اکیلی سی

جب میں نشیب رنگ و بو میں اترا اس کی یاد کے ساتھ
اوس میں بھیگی دھوپ لگی ہے نرم ہری لچکیلی سی

کس کو خبر میں کس رستے کی دھول بنوں یا پھول بنوں
کیا جانے کیا رنگ دکھائے اس کی آنکھ پہیلی سی

تیز ہوا کی دھار سے کٹ کر کیا جانے کب گرجائے
لہراتی ہے شاخِ تمنا کچی بیلی چنبیلی سی

کم روشن اک خواب آئینہ اک پیلا مرجھایا پھول
پس منظر کے سناٹے میں ایک ندی پتھریلی سی

(زیب غوری)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی