پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

اک نیا روپ دیا جائے مری مٹی کو چاک پر پھر سے رکھا …


اک نیا روپ دیا جائے مری مٹی کو
چاک پر پھر سے رکھا جائے مری مٹی کو

حقِ تخلیق ادا کرنے سے قاصر ہوں اگر
تو پریشان کیا جائے مری مٹی کو

اب نہیں ڈھونا ہے یہ بارِ وجود
آج آزاد کیا جائے مری مٹی کو
…..
ایک معمولی سا کردار ملا تھا مجھ کو
پھر بھی انجامِ کہانی پہ اثر ہے میرا
……
خود اپنے آپ سے آگے کہیں نکل آیا
میں اب کے بار چلا اس قدر روانی سے
….
وہ چلا جاتا ہے محشر کوئی برپا کر کے
اور کھڑے رہتے ہیں حیران و پریشان سے ہم
…..
بہت سی آنکھیں مری راہ دیکھتی ہوں گی
میں ایک خواب ہوں تعبیر ہو رہا ہوں ابھی
….
اس آدمی کو اندھیرے نگل گئے اطہر
جو روشنی کے منارے بنانے والا تھا
….
ابھی تو روح کو سیراب کرنا باقی تھا
ابھی تو ٹھیک سے لب بھی نہیں تھے بھیگے مرے
….
قامت مری دراز ہے کوتاہ قد ہے تو
اے زندگی میں تجهہ پہ برابر نہ آؤں گا
۔۔
سنا تھا مجھ میں خزانہ چھپا ہوا ہے کوئی
سو ختم ہوتا ہوں خود کو ادھیڑتا ہوا میں
۔۔
اک اور عمر دے مجھے جینے کے واسطے
تو نے جو عمر دی تھی وہ مرنے میں لگ گئی
۔۔
قامت مری دراز ہے، کوتاہ قد ہے تو
اے زندگی میں تجھ پہ برابر نہ آوں گا
۔۔
اب مجھے اور نہیں ڈھونا یہ زنجیرِ وجود
آج آزاد کیا جائے مری مٹّی کو
۔۔
دشت ِ ہستی سے بگولے کی طرح گزرا ہوں
اپنے پیچھے خس و خاشاک اڑاتا ہوا میں۔
۔۔
زندگی چھوڑ دیا تجھ کو بھی
یعنی تجھ سے بھی محبت نہیں کی
۔۔
سو جتنا رونا ہے رولو گلے لگا کہ مجھے
کہ صبح مجھ کو سفر پر روانہ ہونا ہے
۔۔
اک اور عمر دے مجهے جینے کے واسطے
تونے جو عمر دی تهی وہ مرنے میں لگ گئی
اطہر ضیا
….