اٹھا کے دھوپ ہمیں ساتھ ساتھ چلنا ہے کسی کے جسم کا…
اٹھا کے دھوپ ہمیں ساتھ ساتھ چلنا ہے
کسی کے جسم کا سایہ خرید بیٹھے ہیں
…
ناصرہ زبیری کا یومِ پیدائش
06 September
مدت سے پنپتی ہوئی سازش نے ڈبویا
کہنے کو مرے شہر کو بارش نے ڈبویا
…
بے رخی ہاتھ لگی، سرد نگاہی پائی
ان کو دعویٰ تھا عنایت کا، سو ہم مل آئے
۔ ۔ ۔ ۔
تمہاری یاد کی آہٹ پہ کھلنے لگتی ہیں
مرے خیال کے آنگن میں کھڑکیاں کتنی
….
وقت لازم ہے مگر اے دلِ برباد تجھے
جسم کی موت سے پہلے تو نہیں مرنا تھا
….
ہم سوچتے ہی رہ گئے بدلیں گے ایک دن
وہ دیکھتے ہی دیکھتے کیسا بدل گیا
…
بے خوف کر دیا ہمیں تعویز عشق نے
رسوائی کی بلاؤں سے ڈرنے نہیں دیا
….
شاخ سے اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
پھول کو بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
عمر بیت سکتی ہے بات کو نبھانے میں
بات سے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
یہ تری جدائی کی یادگار ہے ورنہ
ایک زخم بھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
موج میں ہے شہرت کی تیرے نام کا دریا
موج کو اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
بال و پر سے جڑتا ہے سلسلہ اڑانوں کا
بال و پر کترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ہیر، سوہنی، سسی کہہ گئیں زمانے سے
عشق ہو تو مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
لمس کی حرارت سے، ہاتھ آئی تتلی کے
رنگ کو اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ایک وقت لگتا ہے ہجر سے نکلنے میں
وصل سے گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
……..
مقابل ہے جو میرے عکس کے ، اس آئینے میں ہوں
میں خود پر منکشف ہونے کے نازک مرحلے میں ہوں
خودی کے موڈ پر ہوں آپ ہی میں منتظر اپنی
تعارف کی نئی منزل کے پہلے راستے میں ہوں
کشش تیری سہی ، گردش مری اپنی ہے اے محور!
ترے ہی گرد ہوں لیکن میں اپنے دائرے میں ہوں
ابھی اس روشنی کی اصلیت کا راز مت کھولو
ابھی میں چاندنی کے پر فسوں حیرت کدے میں ہوں
تسلسل ساتھ ہے میرے مجھے تبدیل کرنے کا
ازل سے جاری و ساری فنا کے سلسلے میں ہوں
سفر میں چل رہا ہے خوف سا آپس میں لٹنے کا
یہ کیسی راہ پر ہوں میں ، یہ کیسے قافلے میں ہوں
ابھی ترکِ تعلق کے کسی برزخ میں ہے وہ بھی
ابھی محفوظ ہے جو میں بھی ایسے فیصلے میں ہوں
ہوا نے یوں تسلی دی ہے اکثر ریت نگری کو
ادھر آئیں گے آخر ، بادلوں سے رابطے میں ہوں
زمینی مشکلوں کے حل کی فرصت ہی کہاں مجھ کو
بہت الجھی ہوئی اک آسمانی مسئلے میں ہوں
……………….