اور اب یہ غم کہ غمِ انتظار سے بھی گیا کہ …
اور اب یہ غم کہ غمِ انتظار سے بھی گیا
کہ ماہتاب سرِ کوہسار سے بھی گیا
تھکے تھکے ہوئے چہرے، دھواں دھواں موسم
یہ کِس دیار میں آیا، بہار سے بھی گیا
یہیں تو آ کے ہُوا میں بھی جبر کا قائل
کہ دِل کا درد ترے اختیار سے بھی گیا
بڑے غرور سے جیتا تھا تیرا ہجر نصیب
سوالِ وصل کِیا کیا، وقار سے بھی گیا
کبھی جدائی کی شاموں کو گِن تو سکتے تھے
پر اب تو سلسلہ خاوَرؔ شمار سے بھی گیا
خاوَرؔ احمد
از:-منظر میرے دَریچوں سے ص ۴۰
اِنتِخاب
سفیدپوش