ان کے کرم سے رکھ امید، ان کی عطا سے پیار کر
اے دلِ مبتلائے غم ! غم کو بھی خوشگوار کر
حُسنِ یقینِ عاشقی اتنا تو پائیدار کر
خود پر بھی اعتماد رکھ ، ان پر بھی اعتبار کر
دل میں جو میرے زخم میں ان کا نہ اب شمار کر
سینۂ داغدار کو اور بھی داغدار کر
شورشِ آگہی کے ساتھ حُسنِ شعور شرط ہے
ذوقِ جنوں نواز ! اب اور نہ شرمسار کر
… More
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔