ان دنوں میں اناطول فرانسس کے ناول "تائیس"…
ان دنوں میں اناطول فرانسس کے ناول "تائیس" کا مطالعہ کر رہا ہوں اس کی کہانی بہت عمدہ اب تک میں اس کے تقریباً ایک سو پچاس صفحات پڑھ چکا ہوں جن میں اس کے کرداروں کے متعلق ان کے رہن سہن طور و اطوار اور ہجرت اور سیاحت کو بہت ہی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور اس تفصیل کا زیادہ تر حصہ اس کے مرکزی کردار پر فوکس کرتا ہے یہ ایک راہب کی کہانی ہے جو ایک بہت بڑا عالم باعمل ہوتا ہے اور ترکِ دنیا اور نفس کشی کے لئے بہت سی جسمانی اذیتوں اور سختیوں میں از خود مبتلا رہتا ہے اذیتوں کے اسی سلسلے کے ایک سفر کے دوران گاؤں سے دور کسی دریا کے کنارے ستون نما ایک پہاڑی کی چوٹی پر بسیرا کرتا ہے اور عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے کچھ دنوں بعد جب خبر پھیلتی ہے تو اسے خدا کے قریب پہنچا ہوا برگزیدہ بندہ مان کر دور دراز علاقوں سے لوگ اپنی منتیں مرادیں لے کر حاضر ہونا شروع ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ آہستہ آہستہ اس ستون کے گرد و نواع میں ایک شہر سا آباد ہو جاتا ہے سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے بہت عرصے بعد ایک دن اپنے تمام جاہ و لشکر کے ساتھ ایک مورخ آ وارد ہوتا ہے اور اس شہر کی وجہ تسمیہ کو مرتب کرتا ہے
چونکہ میں اس 150 صفحات کی کہانی کے تمام طول و عرض نشیب و فراز اور جزائیات سے آگاہ ہوتا ہوں اس لئے وہ وارد شدہ مورخ اس نوآباد شہر کی وجہ تسمیہ اور اس راہب کے کردار کے حوالے سے جس طرح کے دلائل و حوالاجات سے تاریخ مرتب کرتا ہے گویا مجھ پر تو حیرتوں کے پہاڑ سے ٹوٹ پڑتے ہیں اور میں کتاب بند کر دیتا ہوں اور سوچتا ہوں اور ایک برق رفتاری کے ساتھ میرے ذہن میں ڈاکٹر مبارک علی اور سبط حسن کی ان تمام کتابوں کے نام دوڑ جاتے ہیں جنہیں میں مستقبل میں پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہوں
#مبشرحسین_چاکؔ
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2786754561555059