"انکشاف”
نہ وعدہ ہے کوئی تم سے
رشتہ نبھانے کا
نہ کوئی اور ہی دل میں تہیہ یا ارادہ ہے
کئی دن سے مگر دل میں
عجیب الجھن سی رہتی ہے
نہ تم اس داستان کے سرسری کردار ہو
نہ قصہ اتنا سادہ ہے
تعلق جو میں سمجھا تھا
کہیں اس سے زیادہ ہے
امجد اسلام امجد

"انکشاف”
نہ وعدہ ہے کوئی تم سے
رشتہ نبھانے کا
نہ کوئی اور ہی دل میں تہیہ یا ارادہ ہے
کئی دن سے مگر دل میں
عجیب الجھن سی رہتی ہے
نہ تم اس داستان کے سرسری کردار ہو
نہ قصہ اتنا سادہ ہے
تعلق جو میں سمجھا تھا
کہیں اس سے زیادہ ہے
امجد اسلام امجد