انور سدید کی پیدائش
Dec 04, 1928
4 دسمبر 1928ء کو اردو کے مشہور ادیب، نقاد اور محقق جناب انور سدید پیدا ہوئے ۔
انہوں نے سول انجینئرنگ میں تعلیم کے حصول کے بعد اردو ادبیات میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں اردو ادب کی تحریکیں، اردو ادب میں سفر نامہ،پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ ،میر انیس کی اقلیم سخن، اردو افسانے کی کروٹیں اور اردو ادب کی ایک مختصر تاریخ بے انتہا مشہور ہیں۔وہ لاہور میں مقیم ہیں۔
منتخب کلام
تو جسم ہے تو مجھ سے لپٹ کر کلام کر
خوشبو ہے گر تو دل میں سمٹ کر کلام کر
میں اجنبی نہیں ہوں مجھے روند کر کلام کر
نظریں ملا کے دیکھ پلٹ کر کلام کر
بالاۓ بام آنے کا گر حوصلہ نہیں
پلکوں کی چلمنوں میں سمٹ کر کلام کر
قوس قزح کے رنگ میسر نہیں تو پھر
دریا کی موج موج میں بٹ کر کلام کر
جنت میں یا تو مجھ کو پرانا مقام دے
یا آ نری زمیں میں پلٹ کر کلام کر
انورؔ سدید عام سا بندہ ہے اس کے ساتھ
مٹی پہ بیٹھ گرد میں اٹ کر کلام کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشمن تو میرے تن سے لہو چوستا رہا
میں دم بخود کھڑا ہی اسے دیکھتا رہا
جو پھول جھڑ گۓ تھے جو آنسو بکھر گۓ
خاک چمن سے ان کا پتا پوچھتا رہا
میں پار کر چکا تھا ہزیمت کی منزلیں
ہر چند دشمنوں کے برابر کھڑا رہا
پلکوں پہ جھولتی ہوئی شفاف چلمنیں
کل رات میرا ان سے عجب سلسلہ رہا
اس سنگ دل کے پاس کہاں تھے وفا کے پھول
انورؔ سدید جس کو سدا پوجتا رہا

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔