امرت لال عشرتؔ کا یومِ پیدائش
2؍نومبر 1930
نام امرت لال مدھوک اور تخلص عشرتؔ تھا۔ ان کی پیدائش لاہور کے محلہ دیوان اسٹریٹ میں 02؍نومبر 1930ء کو ہوئی۔ 18؍مئی 1989ء کو بنارس میں انتقال کر گئے۔
منتخب کلام
اداس دل ہے کہ ان کی نظر نہیں ہوتی
بغیر شمس کے تاب قمر نہیں ہوتی
کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہم نے دیکھے ہیں
سما بھی جاتے ہیں دل میں خبر نہیں ہوتی
اٹھو تو دست بہ ساغر چلو تو شیشہ بہ دوش
یہ مے کدہ ہے یہاں یوں گزر نہیں ہوتی
کبھی کبھی مجھے ان کا خیال آتا ہے
کبھی کبھی مجھے اپنی خبر نہیں ہوتی
شبِ حیات ہے ساغر میں ڈوب جا عشرتؔ
یہ ایسی رات ہے جس کی سحر نہیں ہوتی
…..
دل کو ترے وعدوں کی صداقت کا یقین ہے
تو بھول بھی جائے تو کوئی بات نہیں ہے
کیوں اس طرح روٹھے ہوئے بیٹھے ہیں حضور آپ؟
ایسی تو کوئی بات فسانے میں نہیں ہے
اخلاص کی باتیں ہیں کہ تسنیم کے دھارے
احباب کی محفل ہے کہ فردوس بریں ہے
اک ان کے نہ ہونے سے یہ عالم ہے کہ جیسے
دنیا کی کوئی چیز مرے پاس نہیں ہے
اے رات کے صحرا میں بھٹکتے ہوئے تارو!
منزل کا نشاں موت ہے اور صبحِ قریں ہے
بس اس کے سوا کچھ نہیں معلوم کہ عشرتؔ!
شاعر ہے، جواں سال ہے، اور خندہ جبیں ہے
……………………
