کہیں سیدھا کہیں خم دار سا ہے یہ رستہ دل کا زلف یا…


کہیں سیدھا کہیں خم دار سا ہے
یہ رستہ دل کا زلف یار سا ہے
—
ڈاکٹر الیاس وسیمؔ صدّیقی کا یومِ وفات
02؍نومبر 2021
یکم؍مارچ 1945ء کو ریاست مہارشٹر کے شہر مالیگاؤں میں پیدا ہوئے۔
02؍نومبر 2021ء کو انتقال ہوا تھا۔
منتخب اشعار
سیاہ اوراق میں روشن فسانے ڈھونڈ لیتے ہیں
ستم سہہ کر بھی جینے کے بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں
جفا کاروں یہ مت بھولو کہ جب بھی وقت آتا ہے
ہمارے ہاتھ کے پتھر نشانے ڈھونڈ لیتے ہیں
—
کہیں سیدھا کہیں خم دار سا ہے
یہ رستہ دل کا زلف یار سا ہے
—
تیری زلفیں سلاسل کی طرح ہیں
تیرا قامت ستون دار سا ہے
حقیقت اور روایت پھر قابل ہے
سماں فرعون کے دربار سا ہے
وہ شاہیں مرد مومن کی علامت
سنا ہے ان دنوں بیمار سا ہے
اگر دل صاف ہے میری طرف سے
تو لہجہ کیوں تیرا تلوار سا ہے
—
ایک شخص کل ملا تھا کڑی دھوپ میں مجھے
پانی کی آرزو میں لہو بیچتا ہوا
—
کوئی تو جا نہ سکا مہر و ماہ سے آگے
نکل گیا کوئی حدِ نگاہ سے آگے
اُکھڑ چکے تھے قدم احتیاط کے لیکن
مرا جنوں تھا خطِ انتباہ سے آگے
لہو بہائے بنا نصرتیں نہیں ملتیں
زمیں ہے سبز مگر رزم گاہ سے آگے
یہ شخص، پاؤں کے چھالے ہیں جس کا رختِ سفر
ابھی گیا ہے اسی شاہراہ سے آگے
تو جس کو مل گیا پرواز مل گئی اس کو
زمیں کہاں ہے تری جلوہ گاہ سے آگے
کرم یہ کس کا تھا پہنچا یقیں کی منزل تک
بڑھا تھا وہ تو رہِ اشتباہ سے آگے
یہ سینہ کوبی، یہ ماتم وسیؔم ترک بھی کر
کچھ اور رنگ ہیں سرخ و سیاہ سے آگے
……………………………..