ایبٹ آباد شہر میں ایک جگہ دوست کو تندور بنا کر دیا اور ساتھ نیکی کی ٹوکری رکھ دی…


ایبٹ آباد شہر میں ایک جگہ دوست کو تندور بنا کر دیا اور ساتھ نیکی کی ٹوکری رکھ دی کہ چلو کچھ غریب گھرانوں کو دو وقت روٹی مل جائے گی، کاریگر کو تاکید کی تھی کہ تعاون کی صورت میں کوئی روٹی کی رقم دے یا روٹیاں جمع کروا دے تو ٹھیک ورنہ مستحقین کو ہمارے حساب میں سے روزانہ کی مطلوبہ روٹیاں فراہم کر دینا۔۔۔

دن کو کبھی کبھار دیکھ بھال کرنے جانا ہوتا تھا, کچھ وقت سے مشاہدے میں ایک بات آئی کہ ایک نوجوان خاتون اور اس کے ساتھ ایک بڑی عمر کی خاتون آتی ہیں اور 6،8 روٹیاں لے جاتی ہیں محلے میں دو تین تندور اور بھی ہیں وہاں سے بھی یہ لوگ روٹیاں اٹھاتے ہیں, ان کے ساتھ ایک کیری ڈبہ والا بندہ بھی ہوتا ہے جو کافی فاصلے پر کھڑا ہوتا ہے یہ لوگ روٹیاں لے کر گاڑی میں رکھتے ہیں اور روانہ ہو جاتے ہیں۔۔۔

پہلے پہل تو عام روٹین لگی کیوں کہ تندور بنانے کے ایک دو دن بعد میری موجودگی میں یہ خواتین آئیں انہوں نے روٹیاں مانگی میں نے گھر کے افراد کا پوچھ کر کاریگر سے کہہ دیا کہ انہیں ایک وقت کی 6،8 روٹیاں دے دینا اور انہیں بھی کہ دیا کہ آپ لوگ گھر کے جتنے افراد ہیں اس حساب سے دو وقت کی روٹیاں لے جایا کریں, مگر کافی وقت ایک ہی فارمیٹ پر کام کرتے ہوئے انہیں دیکھا تو ایک شک ہوا کہ کہیں معاملہ کچھ اور نہ ہو کیوں کہ دو تین بار سپلائی بازار مارکیٹ سے سامان لیتے ہوئے دوسرے تندوروں سے بھی روٹیاں لیتے دیکھا تھا، اس پر تحقیق کی تو حیرت انگیز انکشاف ہوا عقل حیران رہ گئی کہ لوگوں نے فراڈ کے کیسے کیسے راستے نکالے ہوئے ہیں۔۔۔

ان خواتین اور ان کے ساتھ کیری ڈبے والے بندے کو پکڑا کیری ڈبہ میں پیچھے سیٹوں پر اور نیچے فرش پر روٹیوں کا ڈھیر تھا اور اس پر موٹا کمبل بچھا ہوا تھا، ان سے تحقیق کی تھوڑی تگ و دو کے بعد انہوں نے ساری بات بتا دی کہ ہم 3 افراد ہیں 2 خواتین اور ایک مرد ہے یہ لوگ ایبٹ آباد شہر کے مختلف تندوروں سے نیکی کی ٹوکریوں سے روٹیاں اٹھاتے ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ٹائم کی یہ لوگ 6 سے 8 سو تک روٹیاں جمع کر لیتے ہیں اور ایبٹ آبادکمپلیکس ہسپتال کے آس پاس ہوٹلوں پر اور لاری اڈہ کے بڑے ہوٹلوں پر 10 روپے کے حساب سے روٹیاں فروخت کرتے ہیں، ہوٹل والوں کے بھی مزے ہیں کہ پکی پکائی روٹیاں سستے داموں مل جاتی ہیں آگے وہ لوگ 25،30 روپے کے حساب سے روٹی دیتے ہیں۔۔۔

اب اگر ایک ٹائم کی 8 سو روٹیوں کا حساب کیا جائے تو کم و پیش 8 ہزار روپے کی روٹیاں فروخت کرتے ہیں دو وقت کے 16 ہزار روپے بنتے ہیں جو کہ ماہانہ 4 لاکھ 80 ہزار روپے بنتے ہیں اس میں گاڑی کا خرچہ وغیرہ نکالیں تو ماہانہ کم از کم 4 لاکھ روپے یہ لوگ بناتے ہیں، انہیں مزید کریدا تو ساتھ یہ بھی بتایا کہ پورے پاکستان میں دوسرے لوگ بھی کر رہے ہیں مہنگائی اور غربت کی وجہ سے یہ سب کر نے پڑ رہے ہیں، مزید یہ کہ بہت بار لوگ روٹیوں کے ساتھ رقم بھی دے دیتے ہیں, مذکورہ بالا حساب کتاب میں مبالغہ ہوسکتا ہے لیکن قریب قریب پھر بھی اچھا خاصا حساب بنتا ہے۔۔۔

5 لاکھ روپے ہر ماہ کے حساب سے فراڈ کرنا کتنا آسان ہے لیکن اس کے برعکس کسی بزنس اور نوکری سے دن رات کی جدوجہد اور محنت سے ماہانہ پانچ لاکھ روپے کمانا کتنا مشکل ہے، یہ وہی لوگ جانتے ہیں جو محنت مزدوری کر رہے ہوں یہ حقیقت ہے کہ لوگ بھیک، فراڈ اور چکر بازیوں میں بے غیرت بن کر شرم و حیاء کی چادر اتار کر کئی گنا زیادہ حاصل کر لیتے ہیں، ایک عام بھکاری بھی دن کا 5،6 ہزار کما لیتا ہے اور اگر بھکاری خاتون ہو اس انکم کا ڈبل اور اگر نوجوان لڑکی ہو تو اس انکم کا تین گنا ہو جاتا ہے بھیکاری اور خاص کر خواتین بھکاری ہوں تو ایک عام مزدور اور بزنس سے کئی گنا زیادہ بنا لیتے ہیں۔۔۔

اب دیکھیں کہ ان لوگوں نے کس طرح ذہن لڑایا اور ایک نیک کام میں سے اپنے لئے فراڈ کا راستہ نکال لیا اب ان کی حرکت کی وجہ سے کتنے غریب اور مستحق لوگوں کو نقصان پہنچ رہا ہوگا فراڈ، چکر بازیوں میں بھیک اور مانگنے کا کام ایک نشے کی طرح ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کے شیطانی ذہنوں میں ایسے ایسے خرافاتی آئیڈیاز آتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔۔۔

خاص کر پاکستان بھیک اور فراڈ میں ویسے بھی کافی نام روشن کر رہا ہے نچلے طبقے سے لے کر حکمرانوں تک بھکاری ہیں اپنی صلاحیتیں اور قابلیت کسی جائز کام میں لگانے کے بجائے بھیک اور فراڈ میں صرف کر دیتے ہیں، کیوں کہ یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ محنت مشقت سے بھیک مانگنا اور فراڈ کرنا بہت آسان ہے بس اس کے لئے اپنی غیرت، حمیت، شرم و حیاء کو اتار پھینک دو بے شرم ہوجاؤ تو مزے ہی مزے ہیں، پنجابی کی ایک مثل ہے” عقل ہوئے تے سوچاں ای سوچاں نہ ہوئے تے موجاں ای موجاں“۔۔۔
حامد حسن


Source