امرء القیس عرب کا مشہور شاعر، رزم و بزم کی تصویر ک…

امرء القیس عرب کا مشہور شاعر، رزم و بزم کی تصویر کشی کا ماہر پوری عرب برادری میں مافوق العادت قوت کا حامل تصور کیاجاتا ہے۔ اپنے رزمیہ اشعار میں گھوڑے کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے:

(الف) مِکَرّ مِفَرّ مغقبل مُدْبِر معًا
کجُلمود صَخْر حطّہ السیل من عَلٍ

وہ گھوڑا حملہ کرنے والا، بھاگنے والا،آگے آنے والا، پیچھے کو مڑنے والا سب ایک وقت میں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک پتھر ہے جس کو سیلاب نے اوپر سے لڑھکادیا ہے۔

(ب) کُمیت یُزلّ اللِبْد عن حال متنہ
کما ذَلّت الصفواءُ بالمتنزّل

وہ گھوڑا سیاہی وسفیدی مائل چتکبرا ہے، اس کی پیٹھ ایسی صاف ہے کہ نمدہ اپنی پشت کے وسط سے اس طرح پھسلاتا ہے جیساکہ صاف چکنا پتھر اپنے اترنے کی جگہ سے پھسل کر گرتا ہے۔

(ج) علی الذَبْل جَیّاش کأن اہتزامہ
اذا جاش فیہ حمیُہ غليُ مرجلٍ

وہ دبلا پتلا ہے لیکن جوش ایسا کہ اس کے چلنے کی آواز گرمیٴ نشاط کے جوش میں دیگ کے ابلنے کی آواز معلوم ہوتی ہے۔

(د) اذا ما السابحات علی الونی
أثرن الغبار بالکَدِیْد المُوَکَّل

جس وقت تیز رفتار گھوڑے تھک ہار کر پامال شدہ زمین پر غبار اڑاتے ہیں وہ گھوڑا بدستور بارش کی مانند تیز چلتا ہے۔

(ھ) یُزلّ الغلامَ الخِفّ عن صَہواتہ
ویُلوي بأثواب العنیف المثقل

ہلکے پھلکے اناڑی نوجوان کو اپنی پیٹھ سے پھسلادیتاہے، اور بھاری بھرکم تجربہ کار شہ سواروں کے کپڑے گرادیتا ہے۔

یہ پانچ اشعار ہیں جن میں اکیاون الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ جو گھوڑے کی تعریف میں مقصود بناکر کہے گئے ہیں۔ یقینا سننے والا فصاحت و بلاغت کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا، لیکن,
قرآن نے ضمناً گھوڑے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے۔

والعٰدیٰت ضبحاً،
فالموریٰت قدحًا،
فالمغیرات صبحًا،
فأثرن بہ نقعًا،
فوسطن بہ جمعًا․

قسم ہے دوڑتے ہانپتے گھوڑوں کی جوٹاپ مارکر آگ جھاڑتے ہیں، پھر صبح کے وقت تاخت وتاراج کرتے ہیں، پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں، پھر اس وقت دشمنوں کی جماعت میں جاگھستے ہیں۔

ان آیات میں صرف بارہ (۱۲) الفاظ ہیں اور گھوڑے کی ان میں واقعاتی وحقیقی صفات بیان کی گئی ہیں، جب کہ اشعار میں محض تخیلات ہیں۔ شاعر نے گھوڑے کی تعریف کرتے ہوئے اس کے فرار کی بھی تعریف کی ہے حالانکہ ”فرار“ خواہ کسی وجہ سے ہو عیب ہے، کمال نہیں۔ گھوڑے کی پیش قدمی کو دیگ کی آواز سے تشبیہ دی گئی جو کہ واضح نہیں جب کہ آیات میں نہ تو فرار کا ذکر ہے اور نہ گھوڑے کے دوڑنے کا، بلکہ ہانپنے کا بیان ہے جو بالکل واضح ہے۔

اشعار میں کبھی موٹاپے کا بیان ہورہا ہے تو کبھی لاغری کا جو کہ تعارض ہے اورجھوٹ بھی۔ آیات میں کوئی تعارض نہیں۔ نیز گھوڑے کا پامال شدہ زمین سے مٹی کا اڑانا کوئی کمال نہیں بلکہ اصل کمال تو جب ہے کہ زمین تربتر ہو پھر تیز چلنے سے غبار اڑے- اشعار میں تجربہ کار وناتجربہ کار دونوں کو یاتو گرادیتے ہیں یا پھر اس کے سامان کو ضائع کردیتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مالک کا وفادار نہیں ہے، جبکہ آیات میں گھوڑے اپنے آپ کو جوکھم میں ڈال کر منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں جو وفا داری کی دلیل ہے-


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2905812299649284