اسلمؔ کولسری کا یومِ ولادت یکم؍اگست 1946 اسلم …
اسلمؔ کولسری کا یومِ ولادت
یکم؍اگست 1946
اسلم کولسری، یکم؍اگست 1946ء کو کولسر، ( اوکاڑہ) پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور لیبارٹری سپروائزر کیا اور بعد میں لاہور چلے گئے جہاں انہوں نے ایک اخبار ‘مشرق’ کے لیے کام کیا۔
اسلم کولسری کا انتقال 07؍نومبر 2016ء کو لاہور میں ہوا۔
منتخب کلام
نظر کو وقفِ حیرت کر دیا ہے
اسے بھی دل سے رخصت کر دیا ہے
برائے نام تھا آرام جس کو
غزل کہہ کر مصیبت کر دیا ہے
سمجھتے ہیں کہاں پتھر کسی کی
مگر اتمام حجت کر دیا ہے
گلی کوچوں میں جلتی روشنی نے
حسیں شاموں کو شامت کر دیا ہے
بصیرت ایک دولت ہی تھی آخر
سو دولت کو بصیرت کر دیا ہے
کئی ہمدم نکل آئے ہیں جب سے
زباں کو صرف غیبت کر دیا ہے
سخن کے باب میں بھی ہم نے اسلمؔ
جو کرنا تھا بہ عجلت کر دیا ہے
….
جب دل ہی نہیں باقی وہ آتش پارا سا
کیوں رقص میں رہتا ہے پلکوں پہ شرارا سا
وہ موج ہمیں لے کر گرداب میں جا نکلی
جس موج میں روشن تھا سرسبز کنارا سا
تارا سا بکھرتا ہے آکاش سے یا کوئی
ٹھہرے ہوئے آنسو کو کرتا ہے اشارا سا
تنکوں کی طرح ہر شب تن من کو بہا لے جائے
اک برسوں سے بچھڑی ہوئی آواز کا دھارا سا
جیسے کوئی کم کم ہو شاید وہی اسلمؔ ہو
……
قریب آ کے بھی اک شخص ہو سکا نہ مرا
یہی ہے میری حقیقت یہی فسانہ مرا
یہ اور بات کہ مجھ کو نہ مل سکا اب تک
ترے جہاں میں کہیں ہے سہی ٹھکانہ مرا
چراغ کہنے لگا پھر ہوا کے جھونکے سے
یہ اہتمام تو اے دوست ہے ترا نہ مرا
سو اب تو بزم تمنا میں طائرانہ چہک!
ترے دماغ پہ ہلکا سا بوجھ تھا نہ مرا ؟
ابھی تو گونج رہے ہیں بدن میں شعلے سے
ابھی تو خام ہے انداز عاشقانہ مرا
کہاں مجال کہ مرضی سے پھڑپھڑا بھی سکوں
قفس مثال ہے اسلمؔ یہ آشیانہ مرا
………….