ارشد علی خان قلق زمین پاؤں کے نیچے سے سرکی جاتی ہے…
ارشد علی خان قلق
زمین پاؤں کے نیچے سے سرکی جاتی ہے
ہمیں نہ چھیڑئیے ہم ہیں فلک ستائے ہوئے
…..
آخر انسان ہوں پتھر کا تو رکھتا نہیں دل
اے بتو اتنا ستاؤ نہ خدارا مجھ کو
…..
ان واعظوں کی ضد سے ہم اب کی بہار میں
توڑیں گے توبہ پیر مغاں کی دکان پر
….
بہار آتے ہی زخم دل ہرے سب ہو گئے میرے
ادھر چٹکا کوئی غنچہ ادھر ٹوٹا ہر اک ٹانکا
…..
بے ابر رند پیتے نہیں واعظو شراب
کرتے ہیں یہ گناہ بھی رحمت کے زور پر
…..
حضرت عشق نے دونوں کو کیا خانہ خراب
برہمن بت کدہ اور شیخ حرم بھول گئے
….
قلقؔ غزلیں پڑھیں گے جائے قرآں سب پس مردن
ہماری قبر پر جب مجمع اہل سخن ہوگا
….