پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ادیب سہیل کا یوم وفات March 8/9, 2017 اردو کے ممتا…


ادیب سہیل کا یوم وفات
March 8/9, 2017
اردو کے ممتاز ادیب شاعر اورا نجمن ترقی اُردو کے ادبی ماہنا سے ’’قومی زبان‘‘ کے سابق مُدیر ادیب سہیل کا اصل نام سید محمد ظہور الحق تھا۔ ادیب سہیل 18جون 1927ء کو جوراہ ضلع مونگیر(بہار) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد پہلے مشرقی پاکستان اور پھر کراچی سے سکونت اختیار کی۔ ان کی تصنیفات میں شعری مجموے’’بکھراؤ کا حرفِ آخر‘‘اور کچھ ایسی نظمیں ہوتی ہیں‘‘اہم ہیں ۔ اس کے علاوہ ’’رنگ ترنگ‘‘ کے نام سے انہوں نے موسیقی کے موضوع پر بھی ایک کتاب لکھی۔’’غم زمانہ‘‘ کے نام سے انہوں نے ایک منظوم سوانح عمری بھی لکھی
انکی وفات 8 مارچ کو ہوئی اور نماز جنازہ 9 مارچ کو ادا کی گئی
….
جب سے ہے باد خزاں صرصر غم آوارہ
ادیب سہیل
جب سے ہے باد خزاں صرصر غم آوارہ
خشک پتوں کی طرح رہتے ہیں ہم آوارہ

کچھ تو ہے بات کہ ہے موسم گل کے با وصف
بوئے گل بوئے صبا بوئے صنم آوارہ

کنج در کنج ستم خوردہ غزالوں کو ابھی
تا بہ کے رکھے گی یہ لذت رم آوارہ

حجلہ سنگ سر رہ میں نہ جانے کتنے
رونمائی کو ہیں بیتاب صنم آوارہ

ہے غم زیست کا یا سوز محبت کا صلہ
عارض گل پہ جو ہے گوہر نم آوارہ

رنگ عارض کو تمازت سے بچانے کے لئے
رخ پہ لہرایا ہوا ابر کرم آوارہ