پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

اثر بہرائچی کی پیدائش October 01, 1946 سید مبشر ح…


اثر بہرائچی کی پیدائش
October 01, 1946

سید مبشر حسین اثؔر بہرائچی کی ولادت شہر بہرائچ کے محلہ چکی پورہ چھوٹی بازار میں سید عنایت حسین صاحب کے گھر میں 01- اکتوبر1946ءکو ہوئی ۔آپ کی والدہ کا نام محترمہ مسلمہ خاتون تھا۔ اثر صاحب نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی ۔اثر صاحب جب ہائی اسکول میں تھے تبھی آپ کے والد کا انتقال ہو گیا جس کے سبب آپ ہائی اسکول تک ہی تعلیم لے پاے او ر 1964 میںسرکاری ملازمت اختیار کر لی اور ڈی۔ایم۔آفس میں ۔سن 2006ءمیں آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔
ادبی خدمات
اثر بہرائچی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ آپ کے چچا جناب حکیم محمد اظہر وارثی صاحب شہربہرائچ کے مشہور حکیم ہونے کے ساتھ ایک مشہور استاد شاعر بھی تھے اور حکیم اظہر صاحب نے ہی آپ کو اثر کا تخلص دیا اور آج آپ اثربہرائچی کے نام سے پوری ادبی دنیا میں مشہور ہے ۔اثر بہرائچی کے استاد حکیم محمد اظہر وارثی صاحب تھے، حکیم اظہر صاحب کے انتقال کے بعد آپ نے جناب اظہار وارثیؔ سے سرف تلمذ حاصل کیا جو آج بھی حاصل ہے۔ اثر کا ادبی صفر 1969میں ملک محمد جائسی کی سرزمین جائس رائے بریلی کے ایک مشاعرے سے ہوا،اور اب تک ملک و بیرون ملک میں سیکڑوں مشاعرے پڑھ چکے ہے۔آپ نے 3بار کاٹھ مانڈوں میں 1969,1970,اور1972کے مشاعروں مین شرکت کی اور نیپال کے بادشاہ مہندرا ویر وکرم شاہ دیو اور ہندوستانی صفیر کے سامنے آپنے کلام کو پیش کیااور داد تحسین حاصل کیا ۔اسکے علاوہ سن 2010میں امریکہ کے مختلف شہروں جیسے نیویارک،ہﺅسٹن،سیکاگو،نیو جرسی،کیلی فورنیا وغیرہ میں تقریبن 12مشاعروں میں سرکت کی اور سامعین کو اپنے کلام سے اثر انداز کیا ۔ آپ کا کلام ملک زادہ منظور احمد کے رسالے امکان میں شائع ں شائع ہو تا رہا ہے۔
ادبی سخصیات سے رابطہ
اثر صاحب کا ادبی صفر چاردہائیوں پر مشتمل ہے۔اس دوران آپ کا اپنے وقت کے تمام بڑے ادیبوں اور شاعروں سے رابطہ رہا۔جس میں فراق گورکھپوری،نشہور واحدی،شکیل بدایونی،مجروح سلطان پوری،خمار بارہبنکوی،کیفی اعظمی،جمال بابا بہرائچی،ڈاکٹر نعیم اللہ خیالی بہرائچی،شفیع بہرائچی،محسن زیدی،شوق بہرائچی،عمر قریشی گورکھ پوری،عبرت بہرائچی،ملک زادہ منظور احمد،ساحر لدہیانوی،فنا نظامی،دل لکھنوی،انورمرزاپوری،خاموش غازی پوری،اجمل سلطان پوری،ساغر مہندی بہرائچی،رزمی صاحب،وصفی بہرائچی،وغیرہ سے آپ کے قریبی تعلوقات رہے۔اظہار وارثی صاحب کی سرپرستی میں آپ کی شاعری پرواز پر ہے۔
ادبی کاویشے
اثر بہرائچی صاحب کے دو مجموعہ کلام اب تک منظر عام پر آئے اور داد تحسین حاصل کی۔پہلا مجموعہ نعتیہ مجموعہ ہے جس کا نام ”قلوب“ ہے۔ جبکہ دوسرہ مجموعہ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے اور اس مجموعہ کا نام ”حرف حرف خوشبوں“ ہے ۔
انعامات
اثر صاحب کو بہت سی ادبی تنظیموں نے انعامات سے نوازا ہے جون پور کی ایک تنظیم نے آپ کو ’منظوم‘ اوارڈ سے سرفراج کیا ہے۔ ضلع بہرائچ کے ڈی۔ایم۔ صاحب نے بھی انعامات سے نوازا ہے۔آل انڈیا ریڈیو لکھنوءاور دور درشن لکھنوءسے آ پ کئی بار اپنا کلام پڑھ چکے ہے۔

نمونہ کلام
ممتا سے مہکی مہکی ہوائیں چلی گیئں
بیٹا پکارنے والی صدائیں چلی گیئں
بخشے گا کون مر ہم زخم جگر اثرؔ
گھر سے ہمارے ماں کی دعائیں چلی گیئں