اب تو یہ شاید کسی بھی کام آ سکتا نہیں
آپ ہی لے جائیے میرے دل نادان کو
ذی شان ساحل کی وفات
Apr 12, 2008
٭12 اپریل 2008ء کو اردو کے ایک ممتاز شاعر ذی شان ساحل کراچی میں وفات پاگئے۔
ذی شان ساحل 15 دسمبر 1961ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں پولیو سے پیر خراب ہوجانے اور کائی فوسکو لیوسیس نامی بیماری کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کرپائے۔ اس بیماری کی وجہ سے زندگی کا بڑا حصہ انہوں نے وہیل چیئر پر گزارا۔
1977ء میں انہوں نے شاعری کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔ شروع شروع میں انہوں نے کچھ غزلیں بھی لکھیں مگر پھر نثری نظم ان کی پہچان بن گئی۔ ان کی شاعری کے مجموعے ایرینا، چڑیوں کا شور، کہرآلود آسمان کے ستارے، جنگ کے دنوں میں، کراچی اور دوسری نظمیں، ای میل اور دوسری نظمیں، شب نامہ اور دوسری نظمیں اور نیم تاریک محبت کے نام سے شائع ہوئیں۔ ان کی نظموں کا تہمینہ احمد نے انگریزی میں ترجمہ بھی کیا جو On The Outside کے نام سے اشاعت پذیر ہوئیں۔ آخری دنوں میں وہ ایک ناول لکھنے کی تیاری کررہے تھے کہ سانس کی دقت کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی جا ملے۔ وہ کراچی میں وادیٔ حسین کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا
سفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا
بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سے
اب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا
جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کو
تو مہر و ماہ سے بھی استفادہ کیا کرنا
ترے لبوں کے سوا کچھ نہیں میسر جب
سو فکر ساغر و ساقی و بادہ کیا کرنا
تمام کشتیاں ساحل پہ ہیں ابھی ٹھہری
ابھی سے ان کو جلانے کا وعدہ کیا کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے
اس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے
اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرح
وہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے
دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگر
اس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے
میں نے بنا دیا ہے جسے عشق مین غزل
دل اس کا ہے بیاض تو دیوان جسم ہے
اب اس کے غم سے مجھ کو ملے گی کہاں نجات
دل پاسباں ہے اور نگہبان جسم ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق کی دیوانگی مٹ جاۓ گی
یا کسی کی زندگی مٹ جاۓ گی
ختم ہو جاۓ گا جب قصہ حضور
آپ کی حیرانگی مٹ جاۓ گی
آپ بھی روئیں گے شاید زارزار
پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جاۓ گی
ایک دن بجھ جائیں گے یہ مہر و ماہ
یا نظر کی روشنی مٹ جاۓ گی
یا فنا ہو جائیں گی گلیاں تری
یا مری آواز ہی مٹ جاۓ گی
حسن بھی برباد ہو جاۓ گا دوست
اور دل کی دلکشی مٹ جاۓ گی
اس قدر آباد ہو جائیں گے لوگ
حسرت تعمیر ہی مٹ جاۓ گی

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔