پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے وہ جس کے نام س…


اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے
وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب
…
احمد مشتاق کی پیدائش
Mar 01, 1933

احمد مشتاق اردو کے معروف شاعر ہیں ۔ وہ یکم مارچ 1933 کو امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ شعری مجموعے گردِ ماہتاب اور مجموعہ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ ناصر کاظمی کے بارے میں ہجر کی رات کا ستارہ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی۔ امریکا میں قیام پذیر ہیں۔
.
اب شغل ہے یہی دل ایذا پسند کا
جو زخم بھر گیا ہے نشاں اس کا دیکھنا
…..
اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے
وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب
….
بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا
آنکھ سے ہو کر گال بھگو کر مٹی میں مل جائے گا
…….
بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی
مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا
…..
چپ کہیں اور لیے پھرتی تھی باتیں کہیں اور
دن کہیں اور گزرتے تھے تو راتیں کہیں اور
……
دکھ کے سفر پہ دل کو روانہ تو کر دیا
اب ساری عمر ہاتھ ہلاتے رہیں گے ہم
…..
ایک لمحے میں بکھر جاتا ہے تانا بانا
اور پھر عمر گزر جاتی ہے یکجائی میں
…..
گزرے ہزار بادل پلکوں کے سائے سائے
اترے ہزار سورج اک شہ نشین دل پر
….
ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔ
ہمارے ساتھ ہے سایہ ہمارا
…..
اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھی
میں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا