ابنِ انشاؔ مظفرؔ وارثی ۔۔۔۔۔ ابنِ انشاؔ انشاؔ جی …
ابنِ انشاؔ
مظفرؔ وارثی
۔۔۔۔۔
ابنِ انشاؔ
انشاؔ جی اُٹھو اب کُوچ کرو اِس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سُکُوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹِھکانا کیا
اِس دِل کے درِیدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جِس جھولی میں سو چھید ہُوئے اُس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈُوب چلا زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانا کیا
پِھر ہِجر کی لمبی رات میاں سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دِل میں ہے لب پر آنے دو شرمانا کیا گھبرانا کیا
اُس روز جو اُن کو دیکھا ہے اب خواب کا عالم لگتا ہے
اُس روز جو اُن سے بات ہُوئی وہ بات بھی تھی افسانا کیا
اُس حُسن کے سچّے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چُھو نہ سکیں
جِسے دیکھ سکیں پر چُھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانا کیا
اُس کو بھی جلا دُکھتے ہُوئے من اِک شُعلہ لال بھبُوکا بن
یوں آنسُو بن بہہ جانا کیا یوں ماٹی میں مِل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا۔۔۔!
۔۔۔۔۔
مظفرؔ وارثی
انشاؔجی تُم کُوچ کر گئے بن گئی غزل بہانہ کیا
ہوش کی باتیں جو کرتا ہو ایسا بھی دیوانہ کیا
تُم شہری کے شہری ٹھہرے اور صحرائ کے صحرائ
ڈُھونڈے آج تُمھارا سایہ بستی کیا ویرانہ کیا
تُم ہر دِل میں رہنے والے مٹّی کے نِیچے جا سوۓ
بِھیگی پلکیں لے کر نِکلے اپنا کیا بیگانہ کیا
حرف و معانی بھی ہیں سوگی اور قلم بھی بنا ہے جوگی
اے روتوں کو ہنسانے والے ہنستوں کو یہ رُلانا کیا
سیّاحی کا شوق تُمھارا لےکے تُمھیں کِس دیس سدھارا
آتا نہیں جہاں سے کوئ ہو گئے وہِیں روانہ کیا
جب کوئ پیدا ہوتا ہے سب ہنستے ہیں وہ روتا ہے
اِس دُنیا فانی دُنیا میں آنا کیا اور جانا کیا
اِتنا پیارا شخص مظفرؔ چِھین کے لے گئی موت سِتمگر
جِیتی جاگتی ایک حقیقت ہوگئی آج فسانہ کیا۔۔۔!