ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے اڑ گیا جب رنگ…
ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے
اڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئے
ہاتھ خالی آئی لاشوں پر شہیدوں کے نسیم
پھول بھی اس فصل میں ایسے گراں پیدا ہوئے
خاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیں
اس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے
ضبط دیکھو سب کی سن لی اور نہ کچھ اپنی کہی
اس زباں دانی پر ایسے بے زباں پیدا ہوئے
شور بختی آئی حصے میں انہیں کے وا نصیب
تلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے
جان دی حر نے توحضرت نے دیا باغ ارم
میہماں ایسے نہ ایسے میزباں پیدا ہوئے
بود و نابود علی اصغر کا کیا کہیے میاں
بے زباں دنیا سے اٹھے، بے زباں پیدا ہوئے
دیکھ کر لاشوں کو حضرت کہتے تھے وا غربتا
موت لے آئی کہاں ان کو، کہاں پیدا ہوئے
احتیاط جسم کیا! انجام کو سوچو انیسؔ
خاک ہونے کو یہ مشت استخواں پیدا ہوئے
کلام میر انیس