إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
جیون میں جبیں تلخیِ ایام بہت ہے
گُزرے جو خوشی سے تو یہی شام بہت ہے
ذہنوں کی رفاقت ہو تو پھر سہل ہے منزل
مل جائے تو تقدیر کا انعام بہت ہے
خواہش کا بھی اظہار تجھے کرنا نہ آیا
حسرت کوئی دل میں دلِ ناکام بہت ہے
لکھنا ہے اگر دل پہ لکھو شوق سے لیکن
یہ کیا کہ درختوں پہ لکھا نام بہت ہے
م۔ج۔ع


جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔