اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

آوازِ آدم دبے گی کب تلک آوازِ آدم ہم بھی دیکھیں گ…


آوازِ آدم

دبے گی کب تلک آوازِ آدم ہم بھی دیکھیں گے
رکیں گے کب تلک جذبات برہم ہم بھی دیکھیں گے
چلو یونہی سہی یہ جورِ پیہم ہم بھی دیکھیں گے

درزنداں سے دیکھیں یا عروجِ دار سے دیکھیں
تمہیں رسوا سرِ بازارِ عالم ہم بھی دیکھیں گے
ذرا دم لو ماآلِ شوکتِ جم، ہم بھی دیکھیں گے

یہ زعمِ قوتِ فولاد و آہن دیکھ لو تم بھی
بہ فیض جذبہء ایمان محکم ہم بھی دیکھیں گے
جبیں کج کلاہی خاک پرخم، ہم بھی دیکھیں گے

مکافاتِ عمل، تاریخ انساں کی روایت ہے
کروگے کب تلک ناوک فراہم، ہم بھی دیکھیں گے
کہاں تک ہے تمہارے ظلم میں دم ہم بھی دیکھیں گے

یہ ہنگامِ وداع شب ہے، اے ظلمت کے فرزندو
سحر کے دوش پر گلنار پرچم ہم بھی دیکھیں گے
تمہیں بھی دیکھنا ہوگا یہ عالم ہم بھی دیکھیں گے

ساحر لدھیانوی