منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

آنکھوں میں نمی آئی، چہرے پہ ملال آیا اے جلوۂ مح…

آنکھوں میں نمی آئی، چہرے پہ ملال آیا
اے جلوۂ محبُوبی ، جب تیرا خیال آیا

تھا اُن کی توجہ میں، ہر جذبِ طلب میرا
ہر چند مؤدب تھی ، جب میرا سوال آیا

اِس بات پہ بدلی ہے ، بس چشمِ کرم ان کی
عشاق کے ہونٹوں پہ ، کیوں حرفِ سوال آیا

یا اُن کے حسیں ابرُو ، آئے ہیں تصور میں
یا محفلِ ہستی میں ، رخشندہ ہلال آیا

ہم سجدہ جہاں کر لیں ، کعبہ وہیں بن جائے
مٹ کر تیری الفت میں ، ہم کو یہ کمال آیا

اب حشر بہ داماں ہے ، ہر محفلِ تنہائی
تم آئے تو فرقت کی، عظمت پہ زوال آیا

پھر رنگِ جُنوں برسا، پھولوں کی قباؤں پر
یہ کون گلستاں میں آشفتہ نہال آیا

پیغامِ فناؔ لایا ، تسکینِ دلِ مُضطر
وہ آ گئے نظروں میں، جب وقتِ وصال آیا

(فنا بلند شہری)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی