آنکھوں میں نمی آئی، چہرے پہ ملال آیا اے جلوۂ مح…
آنکھوں میں نمی آئی، چہرے پہ ملال آیا
اے جلوۂ محبُوبی ، جب تیرا خیال آیا
تھا اُن کی توجہ میں، ہر جذبِ طلب میرا
ہر چند مؤدب تھی ، جب میرا سوال آیا
اِس بات پہ بدلی ہے ، بس چشمِ کرم ان کی
عشاق کے ہونٹوں پہ ، کیوں حرفِ سوال آیا
یا اُن کے حسیں ابرُو ، آئے ہیں تصور میں
یا محفلِ ہستی میں ، رخشندہ ہلال آیا
ہم سجدہ جہاں کر لیں ، کعبہ وہیں بن جائے
مٹ کر تیری الفت میں ، ہم کو یہ کمال آیا
اب حشر بہ داماں ہے ، ہر محفلِ تنہائی
تم آئے تو فرقت کی، عظمت پہ زوال آیا
پھر رنگِ جُنوں برسا، پھولوں کی قباؤں پر
یہ کون گلستاں میں آشفتہ نہال آیا
پیغامِ فناؔ لایا ، تسکینِ دلِ مُضطر
وہ آ گئے نظروں میں، جب وقتِ وصال آیا
(فنا بلند شہری)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی