آنچل پہ کجرے کی یہ جھلک
یہ تیری پلک ہے یا میری پلک
یہ جو راہیں ٹیڑھی میڑھی ھیں
اس موڑ سے بس اس موڑ تلک
یہ دوست ہے یا دشمن ہے میرا
سر پر جو ٹنگا ہے نیلا فلک
سب لوگ ہی پیاسےرہ جائیں
پیمانے کچھ اس طرح چھلک
آنکھوں نے قسم دی آنسو کو
گالوں پر ہر دم یوں نہ ڈھلک
مہ جبیں ناز

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔