آلوداع
.
آلوداع
شام غم کی دکھن ،الوداع
موسم ہجر کی بے ارادہ چبھن
آلوداع
دل میں کھلتے ہوۓ
خواہشوں کے چمن
لب جلاتے ہوۓ
ہجرتوں کے سخن
نفرتوں کی گھٹن
آلوداع
.
دل پہ چھائی ہوئی
دکھہ کی سورج گرہن
آلوداع
آلوداع
فکر گور و کفن
آلوداع
دل نے مجھہ سے کہا
ساعت فرق ہے
” جان من آلوداع ”
.
محسن نقوی

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔