پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

آزادی کی دھومیں ہیں شہرے ہیں ترقی کے ہر گام ہے پس…


آزادی کی دھومیں ہیں شہرے ہیں ترقی کے
ہر گام ہے پسپائی ہر وضع غلامانہ
…
جب سے آیا ہے وہ مکھڑا نظر آئینے کو
تب سے اپنی بھی نہیں ہے خبر آئینے کو
..
مجنوں گورکھپوری کا یومِ پیدائش
May 10, 1904

آج اردو کے ممتاز نقاد، محقق، ماہر تعلیم، مترجم،شاعر اور افسانہ نگار مجنوں گورکھپوری کا یومِ پیدائش ہے۔

مجنوں گورکھپوری کا اصل نام احمد صدیق تھا اور وہ 10 مئی 1904ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کراچی سے بطور استاد وابستہ رہے۔
مجنوں گورکھپوری کا شمار اردو کے چند بڑے نقادوں میں ہوتا ہے۔ان کی تنقیدی کتب میں نقوش و افکار، نکات مجنوں، تنقیدی حاشیے، تاریخ جمالیات، ادب اور زندگی، غالب شخص اور شاعر، شعر و غزل اور غزل سرا کے نام سرفہرست ہیں۔
مجنوں گورکھپوری ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے اوران کے افسانوں کے مجموعے خواب و خیال، مجنوں کے افسانے، سرنوشت، سوگوار شباب اور گردش کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ وہ انگریزی زبان و ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور انہوں نے شیکسپیئر، ٹالسٹائی، بائیرن، برنارڈشا اور جان ملٹن کو تخلیقات کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔
04جون 1988ء کو اردو کے ممتاز نقاد، محقق، ماہر تعلیم، مترجم اور افسانہ نگار جناب مجنوں گورکھپوری کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
غزل
۔۔۔۔۔۔۔
رہ جائیں فلک والے شورش سے نہ بیگانہ
ناہید کر تڑپا دے اے نعرہ ء مستانہ

کچھ اور بھی جلوے ہیں کچھ اور بلاوے ہیں
لے تیرا خدا حافظ اے جلوہ ء جانانہ

میخانے کی حرمت کا کچھ پاس بھی ہے لازم
لغزش میں قرینے سے اے لغزشِ مستانہ

آزادی کی دھومیں ہیں شہرے ہیں ترقی کے
ہر گام ہے پسپائی ہر وضع غلامانہ

اے عقل و خرد والو مجنوںؔ کا گلہ کیسا
دیوانے کو کیا کہیۓ دیوانہ ہے دیوانہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔