آج کے دن عصمت چغتائی کو مرنے کے بعد جلا دیا گیا تھ…
آج کے دن عصمت چغتائی کو مرنے کے بعد جلا دیا گیا تھا کیونکہ عصمت نے اس عمل کی خواہش اور وصیت کی تھی۔ عصمت چغتائی کے اس روئیے کو ترقی پسند گروہ۔۔۔۔رسومات سے بھرے معاشرے کے خلاف کا نام دیتا ہے باوجود اس کے کہ عصمت چغتائی کا ناول ۔۔۔۔۔کوئی ترقی پسند۔۔۔۔۔اپنی بیٹی کو پڑھنے کے لئے نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔جہاں تک اس معاشرے سے بغاوت کی بات ہے۔۔۔۔ تو یہ معاشرہ ادیبوں ، ترقی پسند شاعروں کا ہی تو بنایا ہُوا ہے۔۔۔۔۔کیونکہ میرے خیال میں مسلمانوں کا مذہب رسومات سے بالکل پاک ہے جس مساوات کو ایک نظریئے کے طور پہ۔۔۔۔ ترقی پسندوں کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے اس مساوات کی بہترین عملی شکل مسلمانوں کے مذہب میں ملتی ہے۔۔۔۔۔ اگر عصمت چغتائی کے اس "آخری فعل" کو بغاوت تسلیم بھی کر لیا جائے تو سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ بغاوت کس کے خلاف تھی۔۔۔۔ خالِق کائنات کے ان احکام کے خلاف تھی جو خالِق کائنات نے انسان کے مرنے کے بعد کے لئے جاری فرمائے ہیں؟؟۔۔۔۔۔۔یا معاشرے کے خلاف تھی تو۔۔۔۔معاشرہ۔۔۔۔۔"دانشور" ہی ترتیب دیتے ہیں۔۔۔۔عصمت چغتائی کے بارے میں ایک شذرہ پیش ہے۔
(حکیم خلیق الرحمٰن)
اردو کی ممتاز ترقی پسند افسانہ نگار ناول نگار عصمت چغتائی اسّی سال کی لمبی زندگی پاکر اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں ۔عصمت چغتائی کو ان کی وصیت کے مطابق ایک شمشان بھومی میں نذر آتش کیا گیا۔جب اخبارات میں یہ خبر چھپی تو خود ترقی پسند مسلمان ادیب اور شاعر حیرت زدہ رہ گئے ۔
جب عصمت چغتائی کو جلایا جا رہا تھا اس وقت وہاں ان کی بیٹی و داماد دونوں نواسوں و نواسیوں اور معروف ہندی ادیب دھرم ویر بھارتی کے سوا کوئی ترقی پسند اردو ادیب موجود نہ تھا۔ "دوزخی" کا خاکہ لکھنے والی دنیا والوں کے لیے نمونہ عبرت بن گئی بھی اردو ادب میں عصمت چغتائی اپنے مخصوص اسلوب باغیانہ خیالات اور حقیقت نگاری کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے مرد کی برتری کو کبھی نہیں مانا ۔ ان کی جو آپ بیتی شائع ہوئی ہے اس کے اقتباسات آپ بھی پڑھیے ۔
موصوفہ لکھتی ہیں کہ : "میں نے ایک سال تک پنڈت سے گیتا کے سبق پڑھے اور اس کے ایک ایک شبد پر ایمان لائی مجھے عذاب قبر سے بہت خوف آتا ہے اسی لیے بھسم ہونے کی وصیت کر چکی ہوں گرچہ میں ایک چڑیا کو بھی جلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی لیکن موت کے بعد میری اپنی بیٹی اور بہو مجھے جلائیں گے اور مجھے بے بسی کے عالم میں یہ سب کچھ برداشت کرنا ہو گا ۔
میری ایک بیٹی اور اس کا بیٹا آریہ سماجی ہندو ہیں میری دوسری بیٹی نے ایک پارسی سے شادی کی ہوئی ہے ویسے بھی بھارت میں زیادہ تر مسلمان کی مائیں ہندو خاندانوں سے آئی ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم ہولی دیوالی عید اور شب برات بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں ہیں ذاتی طور پر میں نے تو عید پر کبھی بڑا جانور نہیں کٹوایا۔ بڑا گوشت ہمارے گھر میں آتا ہی نہیں میرا نواسہ اور اس کی ماں کٹر ہندو ہیں میری ایک بیٹی اور اس کا خاوند سب ہندو ہیں میری ایک بہن کی بہو بھی ہندو ہے دوسری بیٹی نے ایک پارسی سے شادی کرلی اس کے دو بیٹے ہیں دونوں کٹر پارسی ہیں ان کی دادی نے "کستی" کی رسم سے انہیں باقاعدہ پارسی بنایا تھا۔ ہم سب رسموں میں حصہ لیتے ہیں گنپتی کا تہوار مناتے ہیں جب ہندو بیٹی کے گھر جاتی ہوں تو ہم سب مورتی کے آگے ماتھا ٹیکتے ہیں۔
..
بحوالہ (سخن ہائے گفتنی جلد اول صفحہ 99 پرویز اکبر رحمانی ایجوکیشنل اکیڈمی اسلام پورہ جلگاؤں مہاراشٹر 1999) بشُکرِیَہ رخسار احمد
…
عصمت چغتائی
اترپردیش کے شہر بدایوں میں 21اگست 1915 کو پیدا ہوئیں اور ممبئی میں 24 اکتوبر 1991 کو انتقال ہوا تھا۔عصمت چغتائی کو 1976 میں پدم بھوشن سے نوازا گیا،ان کی پرورش جودھپور میں ہوئی، جہاں ان کے والد مرزا قسیم بیگ سول ملازم تھے
(Hakim Khaliq-ur-Rahman)
Urdu's prominent progressive fiction writer Asmat Chughtai has passed away after having a long life of eighty years. Asmat Chughtai was burnt in a crematorium according to his will. When this news was published in newspapers, it was self-development. Loving Muslim Adeeb and poet were surprised.
When Asmat Chughtai was being burnt, there was no progressive Urdu Adeeb except his daughter and son-in-law, both grandkids and well-known Hindi Adeeb Dharma Veer Indian. An example for the people of the world who wrote the outline of ′′ Hell ′′ It has become a lesson. In Urdu literature, Asmat Chughtai has been viewed with value due to his special methods of rebel thoughts and reality. He has never accepted the superiority of a man. Excerpts of his daughter-in-law published. You also read.
Mosufa writes: ′′ I have read Geeta's lessons from Pandit for a year and believed in each of its Shabds. I am very afraid of the torment of the grave, that is why I have advised to be burnt, even if I burn a bird. Can't see the hue but after death my own daughter and daughter-in-law will burn me and I will have to endure all this in the world of helplessness.
One of my daughter and her son Arya is a social Hindu. My second daughter is married to a parsi. Anyway, most of the Muslim mothers in India have come from Hindu families. This is why we are Holy Diwali Eid and Shab-e-Barat. Big Dhoom Dham. Let's celebrate personally that I have never cut a big animal on Eid. Big meat does not come to our house. My grandson and his mother are a hard Hindu. I have a daughter and her husband are all Hindus. My sister's daughter-in-law. He is also a Hindu, the second daughter married a parsi, he has two sons, both are hard-parsi. His grandmother made him a regular parsi from the ritual of ′′ Kasti We all participate in ritual and celebrate the festival of Ganpati when Hindus When I go to my daughter's house, we all bow down before the statue.
..
Ref (Sukhan hi Gatni soon first page 99 Pervaiz Akbar Rehmani Educational Academy Islampura Jalgaon Maharashtra 1999) Bushukriya Rukhsar Ahmed
…
Asmat Chughtai
Born on 21 August 1915 in the city of Badayon, Uttar Pradesh and died on 24 October 1991 in Mumbai. Asmat Chughtai was awarded Padma Bhushan in 1976, raised in Jodhpur, Where his father Mirza Qaseem Baig was a civil employee