آئینہ لے کے صبا پھر آئی
بُجھتی آنکھوں میں ضیا پِھر آئی
تازہ رس لمحوں کی خوشبُو لے کر
گُل زمینوں کی ھوا پِھر آئی
سُرمئی دیس کے سپنے لے کر
شبنمِ زمزمہ پا پِھر آئی
پِھر چمکنے لگیں سُونی راھیں
ساربانوں کی صدا پِھر آئی
پِھر کوئی قافلہ گُزرا ناصرؔ
وھی آوازِ درا پِھر آئی
” ناصرؔ کاظمی“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔