اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ افسانے

، ،إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۔ عموماً ہم کسی کی موت کی خبر سن…


، ،إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۔ عموماً ہم کسی کی موت کی خبر سن کر پڑھتے ہیں جب کہ صوفیاء فرماتے
کہ ہر بلا، غم و حزن و خوشی اللہ کی طرف سے آتی ہے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔۔اللہ نے یہ فرمایا جو لوگ اس پر یقین رکھیں گے، ان لوگوں پر میری طرف سے رحمت ہے، اور یہی لوگ ھدایت یافتہ ہیں دانشور ہیں۔ *إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ*

ہم صرف جنازے پر نہیں پڑھتے۔ یہ تو زندگی کا نچوڑ ہے۔

صوفیاء نے اس کا مفہوم کھول کر رکھ دیا:
موت گئی تو گئی… مگر رزق گیا؟ *إِنَّا لِلَّٰهِ*
عزت گئی؟ *إِنَّا لِلَّٰهِ*
چاہت نے دل توڑا؟ *إِنَّا لِلَّٰهِ*
خوشی آئی، دل بھر آیا؟ *وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ*

ہر بلا، ہر نعمت، ہر آنسو، ہر مسکراہٹ… سب اسی کی طرف سے آتی ہے، اور اسی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ نہ کچھ ہمارا تھا، نہ کچھ ہمارا رہے گا۔

اللہ نے وعدہ فرمایا:
"جو لوگ اس پر یقین رکھیں گے، ان پر میری رحمتیں ہیں، اور یہی ہدایت یافتہ ہیں”۔

غم آیا تو کہا "اللہ ہی کی طرف سے آیا ہے، اللہ ہی کی جانب لوٹ جائے گا”۔
خوشی آئی تو کہا "اللہ ہی نے نعمت بخشی ہے، اللہ کے شکر میں گزار دوں گا”۔

پھر نہ ٹوٹنے کا ڈر، نہ کھونے کا خوف۔ کیونکہ جو اس کا ہے، وہ سنبھال لے گا۔
بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کے جانے والے ہیں ۔۔۔۔۔
راہ خدا کے مسافر اسی ہی کی جانب ہجرت کرنے والے ۔۔۔۔۔

عقیل چشتی



Source