منتخب غزلیں

ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتا بنانے والے آئ…

ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتا
بنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے
۔۔۔۔۔۔
صفی اورنگ آبادی کا یوم پیدائش
Feb 12, 1893
صفی اورنگ آبادی کا اصل نام بہاؤالدین صدیقی تھا وہ اورنگ آباد کےجون بازار کے علاقے میں 12 فروری، 1893 میں پیدا ہوئے مگر بعد میں ان کا نام ” بہبود” علی صدیقی تبدیل کر دیا گیا.سید بشیر احمد نے لکھا ہے” ان کا یوم پیدائش پیر تھا ۔انہوں نے اسی مناسبت سے استفادہ کرتے اپنے مسلک کا اظہار اس طرح کیا ؎
کون بے پیرا کہے گا اے صفیؔ
روز پیدائش میرا پیر ہے”
صفی اورنگ آبادی کا یہ کمال تھا کہ وہ طبلے کی تھاپ پر ردیف اور قافیہ تلاش کرتے تھے۔ وہ تا حیات مجرد رھے۔ وہ مرد درویش تھے ۔ طبعیت میں سچے اور سادہ تھے ۔ صفی اورنگ آبادی داغ دہلوی کے بعد اردو شاعری کے ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے محاوارات اور ضرب الامثال نئی اظہاری حسیت سے شاعری میں برتا۔ ان کا شاعرانہ اظہار فطری تھا۔
صفی اورنگ آبادی کا انتقال حیدرآباد دکن میں 21 مارچ، 1954 کو ھوا۔
صفیؔ اورنگ آبادی کا منتخب کلام بطور
..
مشکل ہے روک آہ دل داغ دار کی
کہتے ہیں سو سنار کی اور اک لہار کی
۔۔۔۔۔۔
سو سو جواب ہیں تری اک ایک بات کے
انجام پر نظر ہے، جو بنتا ہوں لاجواب
۔۔۔۔۔۔۔
میری ہر اک بات قانونِ محبت ہے، مگر
اے صفی! میں شاعری کرنے سے جھوٹا ہوگیا!

دل جب سے دردِ عشق کے قابل نہیں رہا
اک ناگوار چیز ہے اب دل نہیں رہا
وہ میں نہیں رہا وہ مرا دل نہیں رہا
اب ان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا
کیا التجائے دید کروں دیکھتا ہوں میں
آئینہ بھی ہمیشہ مقابل نہیں رہا
اب وہ خفا ہوئے ہیں تو یوں بھی ہے اک خوشی
مرنا ہمارے واسطے مشکل نہیں رہا
دنیا غرض کی رہ گئی اب اس سے کیا غرض
چلئے کہ لطف شرکت محفل نہیں رہا
سن سن کے اہل عشق و محبت کے واقعات
دنیا کا کوئی کام بھی مشکل نہیں رہا
دنیا کے نیک و بد پہ مری رائے کچھ نہیں
اب تک ادھر خیال ہی مائل نہیں رہا
مجھ سے نہ پوچھو حسرت آرائش جمال
آئینہ بن کے ان کے مقابل نہیں رہا
اک ناامید کے لئے اتنا نہ سوچئے
آزردہ دل رہا بھی تو بے دل نہیں رہا
وہ جان لے چکیں تو کوئی ان سے پوچھ لے
اب تو کچھ اس غریب پہ فاضل نہیں رہا
آیا نہ خواب میں بھی کبھی غیر کا خیال
غفلت میں بھی میں آپ سے غافل نہیں رہا
بے بندگی بھی اس کی رہی بندہ پروری
ملتا رہا اگرچہ میں سائل نہیں رہا
وہ ہاتھ ہیں صفیؔ مجھے اک آستیں کا سانپ
گردن میں دوست کے جو حمائل نہیں رہا
……
کسی دن تو ہمارا دردِ دل سوزِ جگر دیکھو
کبھی تو بھول کر آؤ کبھی تو پوچھ کر دیکھو
نہ دیکھو دوست بن کر تم تو دشمن کی نظر دیکھو
خفا ہو کر بگڑ کر روٹھ کر دیکھو مگر دیکھو
نہیں بھرتی طبیعت لاکھ دیکھو عمر بھر دیکھو
خدا کی شان ہے ایسے بھی ہوتے ہیں بشر دیکھو
کسی کو جب سے دیکھا ہے دکھائی کچھ نہیں دیتا
ہوئی میری نظر کو دوستو کس کی نظر دیکھو
ترستی ہیں یہ آنکھیں دیکھنے کو دل تڑپتا ہے
زیادہ سے زیادہ مختصر سے مختصر دیکھو
مقدر سے نبھی تم ایک گویا بھولے بھالے تھے
کوئی ظالم سے ظالم فتنہ گر سے فتنہ گر دیکھو
کہی ہیں ہم نشینو دل لگی میں تم نے جو باتیں
انہیں سچ مچ پہنچ جائے نہ یہ جھوٹی خبر دیکھو
پھر اس پر نکتہ چیں ہے نکتہ داں ہے شیخ لوگوں میں
اناڑی پڑھ رہا ہے دخت رز کو دخت زر دیکھو
کوئی بیتاب کوئی مست کوئی چپ کوئی حیراں
تری محفل میں گویا اک تماشا ہے جدھر دیکھو
تمہاری بزم بات انسانیت کی پھر رقیبوں میں
بھرے ہیں آدمی کی صورتوں کے جانور دیکھو
نہ ہو جو بندہ پرور بندگی کو بندگی اس کی
جناب دل خدا رزاق کوئی اور گھر دیکھو
نہیں از روئے قانون محبت جرم نظارہ
تو پھر کیوں ہیں جناب دل اگر دیکھو مگر دیکھو
اسے دیکھا ہے جس کے دیکھنے کو لوگ مرتے ہیں
نظر بازو ہماری بھی ذرا حد نظر دیکھو
صفیؔ کو شاعری سے مل گئی ہر دل عزیزی بھی
دروغِ مصلحت آمیز بھی ہے کیا ہنر دیکھو
۔۔۔۔۔۔


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/